← Ulema aur Daur e JadidUlema aur Daur e Jadid
سَتھی رائے
Urdu · 11 min
سَتھی رائے، 19ویں صدی کے آغاز میں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے اعلان کیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو گیا ہے۔ اس کے بعد 500 علماء نے یہ فتویٰ دیا کہ مسلمانوں پر فرض ہو گیا ہے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد بالسيف کریں۔ اس واقعے کے 150 سال بعد بھی جہاد بالسيف کی باتیں بدستور جاری ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی ایک سفر کے دوران ہمس گئے، اس کی روداد بیان کرتے ہوئے وہ اپنی خود نوشت "سوانح عمری" میں لکھتے ہیں: "ہمس، جو سیف اللہ خالد ابن ولید کی آرام گاہ ہے، وہاں مرکزِ اخوان المسلمین میں 29 جولائی 1951 کو میری ایک ولولہ انگیز تقریر ہوئی۔
میں نے کہا کہ شام و ہمس کے رہنے والو، عالمِ اسلام کو اب پھر ایک سیف اللہ کی ضرورت ہے۔ کیا آپ عالمِ اسلام کو اس کی کھوئی ہوئی تلوار مستعار دے سکتے ہیں؟ " صفحہ 390۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم رہنما کس طرح دورِ حاضر کی اصل حقیقت سے بے خبر رہے۔
انہوں نے موجودہ زمانے میں پیش آنے والے مسئلے کو سادہ طور پر صرف سیاسی یا حربی مسئلہ سمجھا، حالانکہ وہ دراصل دورِ انسانی میں تبدیلی کا مسئلہ تھا۔ اپنی اس بے خبری کی بنا پر وہ اپنی جدوجہد میں اس کی رعایت نہ کر سکے، اور نتیجتاً ان کی ساری قربانیاں لاحاصل ہو کر رہ گئیں۔ اہلِ مغرب کے کئی سو سالہ عمل نے دنیا میں ایک نیا دور پیدا کیا تھا؛ ان سے مقابلہ کرنے کے لیے اس کو جاننا ضروری تھا۔ اس نئے دور کے دو خاص پہلو تھے: ایک، شاکلِ انسانی میں تبدیلی؛ دوسرے، معیارِ قوت کا بدل جانا۔
آئندہ صفحات میں ان دونوں پہلوؤں کی مختصر وضاحت کی جائے گی۔ علماء کی دورِ جدید سے بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایسا لٹریچر تیار نہ کر سکے جو جدید ذہن کو مطمئن کرنے والا ہو۔ شاہ ولی اللہ سے لے کر سید خطب تک، میرے علم کے مطابق، مسلم علماء کوئی ایک کتاب بھی ایسی تیار نہ کر سکے جو آج کے مطلوبہ معیار پر پوری اترتی ہو۔ ان سب پر البرٹ ہورانی کا یہ تبصرہ صادق آتا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی بیشتر اسلامی تحریریں عصری فکر کی ہم سطح نہیں ہیں۔
Most of the writings of Islam by Muslims is not on the level of current thought. البرٹ ہورانی۔ دورِ جدید کے علماء کا جو مطبوعہ ریکارڈ ہمارے سامنے ہے، اس کی روشنی میں یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ عقلی بیان، یعنی reasoned statement، کیا ہے۔ اس سلسلے میں روایتی علماء کا تو ذکر ہی نہیں، کیونکہ وہ اس معاملے کی الف با بھی نہیں جانتے۔
خود وہ علماء جو اپنے معتقدین کے درمیان مجمع البحرین سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی اس سے ناواقف نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے سورۃ الحجرات کی تفسیر کے تحت مسلمانوں کی باہمی جنگ کے مسئلے پر کئی صفحے کا حاشیہ لکھا ہے۔ اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں کہ ظالم مسلم حکومت کے خلاف خروج کیا جائے یا نہ کیا جائے، اس بارے میں فقہائے اسلام کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔ اس ابتدائی بیان کے فوراً بعد لکھتے ہیں: "جمہور فقہاء اور اہل الحدیث کی رائے یہ ہے کہ جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہو چکی ہو اور مملکت کا امن و امان اور نظم و نسخ اس کے انتظام میں چل رہا ہو، وہ خواہ عادل ہو یا ظالم، اور اس کی امارت خواہ کسی طور پر قائم ہوئی ہو، اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، الا یہ کہ وہ کفرِ صریح کا ارتکاب کرے۔
" اس پر امام نووی اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تفہیم القرآن جلد 5 صفحہ 79-83۔ یہ دونوں پیراگراف ایک دوسرے کی ضد ہیں، کیونکہ جب ایک معاملے میں جمہور فقہاء کی ایک رائے ہو، حتیٰ کہ اس پر علماء و فقہاء کا اجماع ہو چکا ہو، تو اس کے بارے میں یہ کہنا بالکل بے معنی ہے کہ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔ الجہاد فی الاسلام مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی "معرکۃ الاعراب" کتاب سمجھی جاتی ہے۔
اس کے دیباچے میں مولانا موصوف لکھتے ہیں: "دورِ جدید میں یورپ نے اپنے سیاسی اغراض کے لیے اسلام پر جو بہتان تراشے ہیں، ان میں سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے اور اپنے پیروؤں کو خون ریزی کی تعلیم دیتا ہے۔ " اس بہتان کی اگر کچھ حقیقت ہوتی تو قدرتی طور پر اسے اس وقت پیش ہونا چاہیے تھا جب پیروانِ اسلام کی شمشیر، شمشیر خارہ شگاف نے کرۂ زمین میں ایک تہلکہ برپا کر رکھا تھا، اور فی الواقع دنیا کو یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید ان کے یہ فاتحانہ اقدامات کسی خونریز تعلیم کا نتیجہ ہوں۔ الجہاد فی الاسلام دہلی 1984 صفحہ 15۔ اس عبارت کا آخری حصہ اس کے پہلے حصے کی تردید ہے۔
آخری حصے میں مصنف خود یہ بات مان رہے ہیں کہ مسلمان اپنی شمشیر خارہ شگاف لے کر احوامِ عالم پر ٹوٹ پڑے۔ پھر یہی تو وہ بات ہے جس کو علماء یورپ کہتے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں اس کو بہتان کس طرح قرار دیا جائے گا؟ سید خطب کی تفسیر قرآن بہت مشہور ہے، جو 6 جلدوں میں قاہرہ سے شائع ہوئی ہے۔
مجموعی طور پر اس کے 4000 سے زیادہ صفحات ہیں، مگر پوری تفسیر غیر علمی انداز میں ہے۔ اس میں انشاء کا حسن تو یقیناً ہے، مگر حقیقی علمی استدلال سے وہ تقریباً خالی ہے۔ مثال کے طور پر وہ سورہ فصلت کی آیت 41 تا 42 کی تشریح اس طرح کرتے ہیں: وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيمٍ وَأَنَّ لِلْبَاطِلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى هَذَا الْكِتَابِ وَهُوَ صَادِرٌ مِنَ اللَّهِ الْحَقِّ يَسْدَعُ بِالْحَقِّ وَيَتَّصِلُ بِالْحَقِّ الَّذِي تَقُومُ عَلَيْهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَأَنَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ وَهُوَ عَزِيزٌ مَحْفُوزٌ بِأَمْرِ اللَّهِ. فی ضلال القرآن جلد 5 صفحہ 3127۔
یہ تفسیر محض ایک ادبی تفسیر ہے، اس کا علمی یا عقلی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں۔ سورہ الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ نقل فرمایا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ کی دعوت کے جواب میں فرعون اپنے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے تقریر کرتا ہے، اور ان کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے، جو بظاہر موسیٰ کے خطاب سے متاثر ہو رہے تھے۔ اس تقریر میں فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کہ موسیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے ملک مصر سے نکال دیں۔
يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ اس کی تشریح سید خطب نے ان الفاظ میں کی ہے: إِنَّهُمْ يُصَرِّحُونَ بِالنَّتِيجَةِ الْهَائِلَةِ الَّتِي تَتَقَرَّرُ مِنْ إِعْلَامِ تِلْكَ الْحَقِيقَةِ: أَنَّهَا الْخُرُوجُ مِنَ الْأَرْضِ، أَنَّهَا ذِهَابُ السُّلْطَانِ، أَنَّهَا إِبْطَالُ شَرْعِيَّةِ الْحُكْمِ أو مُحَاوَلَةُ قَلْبِ نِظَامِ الْحُكْمِ بِالتَّعْبِيرِ الْعَصْرِيِّ الْحَدِيثِ. فی ضلال القرآن لسید قطب، تفسیر سورۃ الاعراف الایہ 110 جلد 3 صفحہ 1348۔ وہ اس خوفناک نتیجے کو واضح کرتے ہیں جو اس حقیقت کے اعلان سے ناگزیر ہو جاتی ہے: یہ کہ یہ زمین مصر سے نکلنا ہے۔ یہ کہ یہ سرزمینِ مصر سے نکلنا ہے۔
یہ اقتدار کا خاتمہ ہے۔ یہ ہماری حکمرانی کو ناجائز ٹھہرانا ہے۔ یا یہ دورِ جدید کی تعبیر کے مطابق نظامِ حکومت کو بدلنے کی کوشش ہے۔ آیت کی یہ تشریح سراسر غیر علمی اور غیر عقلی ہے، کیونکہ قرآن میں جب موسیٰ اور فرعون دونوں کا کلام موجود ہے تو موسیٰ کی دعوت کو موسیٰ کے کلام سے معلوم کیا جائے گا، نہ کہ فرعون کے کلام سے۔
فرعون کی تقریر سے موسیٰ کا مقصد اخذ کرنا ایسا ہی ہے جیسے سید خطب کی تحریک کے مقصد کو جمال عبدالناصر کے بیان سے اخذ کیا جائے۔