← Ulema aur Daur e JadidUlema aur Daur e Jadid
چند مثالیں
Urdu · 7 min
سید ابو الاعلی مودودی کے نزدیک اسلام ایک مکمل سیاسی انقلاب کی تحریک ہے۔ اس سلسلے میں اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے وہ پرجوش طور پر لکھتے ہیں: "آج دنیا آپ کے مؤذن کو 'اشھد ان لا الہ الا اللہ' کی صدا بلند کرتے ہوئے اس لیے ٹھنڈے پیٹوں سن لیتی ہے کہ نہ پکارنے والا جانتا ہے کہ کیا پکار رہا ہوں، نہ سننے والوں کو اس میں کوئی معنی اور مقصد نظر آتا ہے۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اس اعلان کا مقصد یہ ہے، اور اعلان کرنے والا جان بوجھ کر اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ میرا کوئی بادشاہ یا فرماں روا نہیں ہے، کوئی حکومت میں تسلیم نہیں کرتا، کوئی حکومت میں تسلیم نہیں کرتا، کسی خانون کو میں نہیں مانتا، کسی عدالت کے حدودِ اختیارات مجھ تک نہیں پہنچتے، کسی کا حکم میرے لیے حکم نہیں ہے، کوئی رواج اور کوئی رسم مجھے تسلیم نہیں، کسی کے امتیازی حقوق، کسی کی ریاست، کسی کا تقدس، کسی کے اختیارات میں نہیں مانتا، ایک اللہ کے سوا میں سب سے منحرف ہوں" تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس صدا کو کہیں بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ آپ خود کسی سے لڑنے جائیں یا نہ جائیں، دنیا خود آپ سے لڑنے آ جائے گی۔
یہ آواز بلند کرتے ہی آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ یکایک زمین و آسمان آپ کے دشمن ہو گئے ہیں، اور ہر طرف آپ کے لیے سانپ، بچھو، اور درندے ہی درندے ہیں۔ اسلامی سیاست، دہلی، 1986، صفحہ 175 تا 76۔ سید ابو الاعلی مودودی نے یہ پرجوش الفاظ اس لیے لکھے کہ انہوں نے دیکھا کہ آج ہماری مسجدوں سے اذان کی آواز بلند ہو رہی ہے، تو کوئی اس کی وجہ سے ہم سے لڑنے نہیں آتا۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے میں توحید کی آواز بلند کی، تو ہر طرف سے متشددانہ مخالفت شروع ہو گئی۔
کسی کو گھر والوں نے نکال دیا، کسی پر مار پڑی، کسی کو قید میں ڈالا گیا، کسی کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا گیا، کسی کی سر بازار پتھروں اور گالیوں سے تواضع کی گئی، کسی کی آنکھ پھوڑی گئی، کسی کا سر پھاڑ دیا گیا۔ صفحہ 177۔ یہ الفاظ دورِ جدید سے بے خبری کا ثبوت ہیں۔ مصنف اگر زمانِ حاضر سے گہری واقفیت رکھتے تو وہ جانتے کہ اس فرق کا سبب زمانی عامل یعنی ایج فیکٹر ہے۔
قدیم زمانہ مذہبی تہذیب یعنی ریلیجس پرسیکیوشن کا زمانہ تھا، موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ مذکورہ فرق 'لا الہ الا اللہ' کے سیاسی مفہوم کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ زمانی فرق کا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود سید ابو الاعلی مودودی، جو یقینی طور پر اس انقلابی مفہوم کے حامل تھے، انہوں نے اور ان کی جماعت نے غیر منقسم ہندوستان میں 10 سال تک اپنے انقلابی مفہوم کے مطابق اذان دی۔ مگر یہاں کی حکومت نے کبھی اس بنا پر ان کی پکڑ دھکڑ نہ کی، اور نہ ان کے سروں پر اس وجہ سے آرے چلائے گئے۔
مولانا سید ابو الاعلی مودودی اگر اس زمانی فرق کو جانتے تو اس کو وہ اسلامی دعوت کے حق میں ایک عظیم امکان سمجھتے۔ مگر اس فرق کی حقیقت نہ جاننے کی وجہ سے وہ اس کو استعمال نہ کر سکے۔ مولانا ابو الاعلی مودودی کی ایک کتاب 'تنقیحات' ہے، اس میں مصنف کے وہ مضامین جمع کیے گئے ہیں جو انہوں نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تصادم پر لکھے تھے۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مغربی تہذیب سراسر باطل تہذیب ہے۔
دہریت، الحاد، لامذہبیت اور مادہ پرستی نے اس کو پیدا کیا ہے۔ مذہب کے خلاف عقل و حکمت کی لڑائی نے اس تہذیب کو جنم دیا ہے۔ صفحہ 9۔ اسلام کے اصولِ تمدن و تہذیب مغربی تہذیب و تمدن کے اصول سے یکسر مختلف ہیں۔
صفحہ 25۔ وہ تخمِ خبیث جو مغرب کی نشتِ ثانیہ کے زمانے میں بویا گیا تھا، چند صدیوں کے اندر تمدن و تہذیب کا ایک عظیم الشان شجرِ خبیث بن کر اٹھا ہے، جس کے پھل میٹھے مگر زہر آلود ہیں، جس کے پھول خوشنما مگر خاردار ہیں، جس کی شاخیں بہار کا منظر پیش کرتی ہیں مگر وہ ایسی زہریلی ہوا اگل رہی ہیں جو نظر نہیں آتی، اور اندر ہی اندر نوعِ بشری کے خون کو مسموم کیے جا رہے ہیں۔ صفحہ 28 تا 29۔ اس قسم کے مضامین صرف جدید تہذیب سے بے خبری کا نتیجہ ہیں۔
اس بے خبری کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانے کے علماء کے لیے یہ تہذیب صرف نفرت و حقارت کا موضوع بن گئی۔ وہ اس کے اندر چھپے ہوئے مثبت امکانات کو دریافت ہونے سے قاصر رہے۔ اور اسی لیے وہ اس کو اپنے حق میں استعمال بھی نہ کر سکے۔