Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Ulema aur Daur e Jadid
Ulema aur Daur e Jadid

عُصر میں یُسر

Urdu · 5 min

علماء کے ذہن پر سیاست و حکومت کے غیر ضروری تسلط کا سب سے زیادہ مہلک نقصان یہ ہوا کہ جدید انقلاب میں انہیں ہر طرف بس ظلم اور سازش اور مصائب نظر آئے۔ اس انقلاب کے اندر چھپے ہوئے امکانات و مواقع کو دیکھنے سے وہ کلی طور پر محروم رہے۔ اور جو لوگ مواقع کو دیکھنے سے محروم رہیں، وہ یقینی طور پر ان کو استعمال کرنے سے بھی محروم رہتے ہیں۔ خُرآن سورہ نمبر 94 آیت 5 تا 6 میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا کے لیے خدا کا خانون یہ ہے کہ یہاں ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ضرور موجود رہے۔

یہاں ہر مسئلے کے ساتھ ہی مواقع بھی ضرور پائے جائیں۔ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا قدیم تفسیروں میں اس آیت میں "مع" کی تفسیر "مع" یعنی ساتھ کے ذریعے کی گئی ہے۔ مثلاً مفسر ابن کثیر نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ عُصر کے ساتھ یُسر پایا جاتا ہے۔ أَخْبَرَ تَعَالَى أَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُوجَدُ الْيُسْرَ مگر موجودہ زمانے کے علماء پر زمانی مسائل کا اتنا غلبہ تھا کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔

انہوں نے اپنے غیر واقعی ذہنی تاثر کے تحت آیت میں یہ تصرف کیا کہ "مع" کو بات کے معنی میں لے لیا اور اس کے مطابق اس کی تشریح کر ڈالی۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی تفہیم الخُران میں سورۃ الانشراح کی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: "اس بات کو دو مرتبہ دہرایا گیا ہے تاکہ حضور کو پوری طرح تسلی دے دی جائے کہ جن سخت حالات سے آپ اس وقت گزر رہے ہیں، یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں ہیں، بلکہ ان کے بعد قریب ہی اچھے حالات آنے والے ہیں۔ " بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتی ہے کہ تنگی یعنی عُصر کے ساتھ فراخی یعنی یُسر ہو، کیونکہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کے بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں استعمال کیے گئے ہیں کہ فراخی کا دور اس قدر قریب ہے کہ گویا وہ اس کے ساتھ ہی چلا آ رہا ہے۔

اس تفسیر میں "مع" کی ساری اہمیت ختم ہو گئی، حالانکہ "مع" کا لفظ یہاں بہت بامعنی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اسی کے ساتھ حل کی صورتیں بھی موجود رہتی ہیں۔ یہاں ہر ڈس ایڈوانٹیج اپنے ساتھ ایڈوانٹیج کو بھی ضرور لے آتا ہے۔ مغربی تہذیب اور مغربی استعمار کا معاملہ بھی یہی تھا: وہ مسلم دنیا کے اوپر ایک بلا کے طور پر نازل ہوا، مگر اسی کے ساتھ اس میں زبردست قسم کے موافق امکانات بھی ہمارے لیے موجود تھے۔

اور سب سے بڑا موافق امکان یہ تھا کہ اس نے اسلام کی دعوت کے ایسے نئے اور طاقتور امکانات کھول دیے جو پچھلی تاریخ میں کبھی حاصل نہ تھے۔ علماء اگر اس راز کو سمجھتے اور اس کو استعمال کرتے تو وہ تاریخ جدید کے علمیہ کو امت کے حق میں تربیہ بنا دیتے۔ مگر مذکورہ ذہن کی وجہ سے وہ اس کو سمجھ نہ سکے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.