Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Ulema aur Daur e Jadid
Ulema aur Daur e Jadid

نئے دعوتی امکانات

Urdu · 7 min

موجودہ زمانے میں جو نئے دعوتی امکانات پیدا ہوئے ہیں، اس پر راقم الحروف نے کثیر تعداد میں کتابیں اور مضامین شائع کیے ہیں۔ یہاں مختصر طور پر اس کے کچھ پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ نمبر 1: دورِ جدید کی بنیاد آزادیِ فکر پر تھی۔

اس فکری انقلاب نے جس طرح اور بہت سی چیزیں پیدا کیں، اس نے ایک نہایت اہم چیز وہ پیدا کی جس کو مذہبی آزادی کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے تمام پچھلے زمانوں میں مذہبی تہذیب، یعنی Religious Persecution، کا عام رواج رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مذہبی آزادی اور مذہبی تبلیغ کو ایک جائز انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا، اور اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی کے منشور کے تحت تمام دنیا کی قوموں نے اس پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار ہمارے لیے مواقع کھول دیے کہ ہم بے روک ٹوک دینِ حق کی تبلیغ و اشاعت کر سکیں۔

نمبر 2: موجودہ زمانہ آزادانہ تحقیق، یعنی Free Inquiry، کا زمانہ تھا۔ اس کے نتیجے میں جس طرح دوسری چیزوں کی آزادانہ جانچ کی گئی، اس طرح مذہب اور مذہبی کتابوں کو بھی آزادانہ طور پر جانچا گیا۔ مثال کے طور پر، تنقیدِ بائبل، یعنی Biblical Criticism، کے تحت بائبل کا جو تنقیدی مطالعہ کیا گیا، اس سے خالص علمی سطح پر یہ ثابت ہو گیا کہ بائبل کا موجودہ متن تاریخی طور پر معتبر متن نہیں ہے۔ دوسری طرف، قرآن پر اسی قسم کے مطالعے نے یہ ثابت کیا کہ قرآن کا موجودہ متن تاریخی معیار سے آخری حد تک ایک معتبر متن ہے۔

جدید دور نے ایک طرف انسانی علم کے معیار پر، دوسری کتبِ مقدسہ کا محرف ہونا ثابت کر دیا، اور اس طرح خود انسانی علم کے معیار پر یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن مکمل طور پر ایک غیر محرف کتاب ہے۔ تقابلی مذہب کے اس مطالعے نے دورِ جدید میں اسلامی دعوت کا ایک نیا دروازہ کھول دیا، جو ابھی تک بند پڑا ہوا تھا۔ نمبر 3: موجودہ زمانے میں جو مختلف نئے علوم پیدا ہوئے، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو علم الانسان، یعنی Anthropology، کہا جاتا ہے۔ اس میں انسانی معاشروں کا مطالعہ خالص موضوعی انداز میں کیا گیا۔

اس مطالعے سے یہ ثابت ہوا کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ ہر انسانی معاشرے میں ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اس تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ خدا اور مذہب کا عقیدہ ایک فطری عقیدہ ہے، وہ انسان کی خود اپنی طلب کا جواب ہے۔ اس دریافت نے اسلامی دعوت کو یہ حیثیت دے دی کہ وہ اسی طرح انسانی ضرورت کی فراہمی کا ایک کام ہے، جس طرح خوراک کی فراہمی، یعنی Food Supply، کا نظام۔ نمبر 4: موجودہ زمانے میں جو سائنسی حقائق دریافت ہوئے، وہ حیرت انگیز طور پر قرآن کے بیانات کی تائید کر رہے تھے۔

وہ قرآن کی پیشن گوئی کی تصدیق تھے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْأَفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ سورہ نمبر 41 آیت 53۔ یعنی: عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ حق ہے۔ اس اعتبار سے جدید سائنس ایک مسلم داعی کے لیے طاقتور علمی ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ نمبر 5: نئی ایجادات میں ایک چیز وہ ہے جس کو جدید مواصلات، یعنی Modern Communication، کہا جاتا ہے۔

اس نے تاریخ میں پہلی بار تمام فاصلے آخری حد تک گھٹا دیے، اور اس طرح اس کو ممکن بنایا ہے کہ ایک داعی نہایت آسانی کے ساتھ ساری دنیا کو اپنی تبلیغ کا میدان بنا سکے۔ وسائل کے اعتبار سے یہ حدیثِ رسول کی اس پیشن گوئی کا ظہور ہے، جس میں خبر دی گئی تھی کہ ایک وقت آئے گا جبکہ اسلام کی آواز تمام دنیا کے ہر گھر میں پہنچ جائے گی۔ نمبر 6: میں نے اپنی کتاب "عقلیاتِ اسلام" کے ابتدائیہ میں، جون 1978 میں کہا تھا کہ آزاد دنیا میں دعوت کے غیر معمولی نئے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، تاہم اشتراکی دنیا کا اس میں استثنا ہے، کیونکہ وہاں کامل جبر کا نظام قائم ہے۔ اس لیے وہاں اس وقت دعوتِ اسلامی کے کھلے مواقع موجود نہیں ہیں۔

مگر اس تحریر کے صرف 13 سال بعد حالات بدل گئے۔ 1991 کے خاتمے کے ساتھ اشتراکی ایمپائر کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ اب اشتراکی دنیا میں بھی تبلیغِ دین کے وہی مواقع کھل گئے ہیں جو اس سے پہلے صرف غیر اشتراکی دنیا میں پائے جاتے تھے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.