Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Ulema aur Daur e Jadid
Ulema aur Daur e Jadid

معیارِ قوت میں تبدیلی

Urdu · 5 min

اوپر جو بات کہی گئی، وہ قوانینِ فطرت کی دریافت کے فلسفیانہ پہلو سے تعلق رکھتی تھی۔ عملی اعتبار سے، اس دریافت نے مغرب کو مزید ایک بہت بڑا فائدہ پہنچایا۔ اس کے ذریعے اہلِ مغرب کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ تاریخ میں پہلی بار طاقت کے معیار کو بدل دیں۔

وہ طاقت و قوت کو ایک نیا مفہوم دے دیں، جس سے پچھلی قومیں آشنا نہیں ہو سکیں تھیں۔ اس کے ذریعے اہلِ مغرب نے قدیم روایتی دور کو نئے سائنسی دور میں داخل کر دیا۔ انہوں نے دستکاری کی صنعت کو مشینی صنعت میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے جہاز رانی کو بادبانی کشتی کے دور سے نکال کر دخانی کشتی کے دور میں پہنچا دیا۔

انہوں نے دستی ہتھیاروں سے آگے بڑھ کر دور مار ہتھیار تیار کر لیے۔ انہوں نے بری اور بحری سفر پر ہوائی سفر کا اضافہ کیا۔ انہوں نے حیوانی قوت سے چلنے والی سواری کو انجن کی قوت سے چلنے والی سواری میں تبدیل کر لیا۔ انہوں نے انسانی تاریخ کو محنت کے عمل کے دور سے نکال کر منصوبہ بند عمل کے دور میں پہنچا دیا۔

تاریخ کے پچھلے ادوار میں ایک فریق اور دوسرے فریق کے درمیان زیادہ تر کمیتی فرق، یعنی کوانٹیٹیٹیو ڈیفرنس، ہوا کرتا تھا۔ اب اہلِ مغرب نے ایسا دور تخلیق کیا، جبکہ ان کے اور دوسروں کے درمیان کیفیاتی فرق، یعنی کوالیٹیٹیو ڈیفرنس، پیدا ہو گیا۔ اس تبدیلی نے اہلِ مغرب کو دوسری قوموں کے اوپر واضح اور فیصلہ کن فوقیت دے دی۔ ان فروغ نے جس طرح حالات کو بدلا، اسی طرح خود انسانوں میں زبردست تبدیلیاں پیدا کیں۔

اب اہلِ مغرب نئی دریافت کی نفسیات میں جی رہے تھے، اور اہلِ مشرق وراثتی عقیدے کی نفسیات میں۔ اہلِ مغرب اجتہادی اوصاف کے مالک تھے، اور اہلِ مشرق تخلیدی اوصاف کے مالک۔ اہلِ مغرب کے درمیان آزادیِ تنقید کا ماحول تھا، اور اہلِ مشرق کے یہاں ذہنی جمود کا ماحول۔ اہلِ مغرب کا قافلہ رواں دریا کی مانند تھا، اور اہلِ مشرق کی جماعت ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند۔

اہلِ مغرب ایک مقصد کے تحت متحرک ہوئے تھے، اور اہلِ مشرق کے یہاں مقصد کا تصور فنا ہو چکا تھا۔ اہلِ مغرب کے زندہ اوصاف نے ان کو باہم متحد کر رکھا تھا، اور اہلِ مشرق اپنے زوال یافتہ اوصاف کے نتیجے میں ان خصوصیات سے محروم ہو چکے تھے جو افراد کو ایک دوسرے سے متحد کرتے ہیں۔ اہلِ مغرب اس احساس پر ابھرے تھے کہ انہوں نے ایک نئی تہذیب پیدا کی ہے جس کو انہیں سارے عالم تک پہنچانا ہے، اور اہلِ مشرق صرف اس احساس پر زندہ تھے کہ وہ ماضی کے قدیم اثاثے کے وارث ہیں۔ اہلِ مغرب اقدام کے جذبات سے بھرپور تھے، جبکہ اہلِ مشرق کی دوڑ کی آخری حد تحفظ پر جا کر ختم ہو جاتی تھی۔

اس فرق نے دونوں جماعتوں کے افراد کے درمیان زیادہ بڑے پیمانے پر وہی فرق پیدا کر دیا تھا جو ایک تھکی ہوئی فوج اور ایک تازہ دم فوج کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ اپنے گروہ کے افراد کو اثرِ نو تیار کیا جائے، نہ کہ ان غیر تیار شدہ افراد کو جوش دلا کر انہیں فریقِ ثانی کے خلاف صف آرا کر دیا جائے، جیسا کہ موجودہ دور کے علماء نے کیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.