← Ulema aur Daur e JadidUlema aur Daur e Jadid
شاکلِ انسانی کا مسئلہ
Urdu · 8 min
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے شاکلہ یعنی فکری مزاج کے تحت عمل کرتا ہے۔ اس کا شاکلہ اگر شاکلِ ذلالت ہو تو اس سے غلط عمل صادر ہوگا، اور اگر اس کا شاکلہ شاکلِ ہدایت ہو تو اس سے صحیح عمل کا صدور ہوگا۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا سورہ نمبر 17، آیت 84۔ یعنی کہو کہ ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے۔
اب تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے دنیا کا اصل مسئلہ یہ تھا کہ لوگوں کے اوپر شاکلِ ذلالت کا غلبہ تھا۔ یہ شاکلہ مشرکانہ عقائد کے تحت بنا تھا۔ اسی شاکلِ ذلالت کو قرآن میں فتنہ، سورہ نمبر 8، آیت 39 کہا گیا ہے۔
رسول اور اصحاب رسول نے اپنی غیر معمولی جدوجہد سے اس شاکلِ ذلالت کو توڑ دیا۔ اس کے بعد دنیا میں شاکلِ ہدایت کا دور شروع ہوا، جو توحید کے تصور پر مبنی تھا۔ یہ شاکلِ ہدایت کم و بیش 1000 سال تک دنیا پر غالب رہا۔ اٹھارویں صدی میں یہ عہد ختم ہو کر نیا عہد شروع ہوا۔
اب تاریخِ انسانی میں ایک نیا دور آیا۔ یہ دور دوبارہ شاکلِ ذلالت پر مبنی تھا، جو ملحدانہ افکار کے اوپر قائم ہوا تھا۔ اسلامی دور میں خدا انسانی تفکیر کا مرکز تھا۔ یہی تصور انسانی اعمال کی تشکیل کرتا تھا۔
موجودہ زمانے میں نیچر نے خدا کی جگہ لے لی۔ اب نیچر پر مبنی افکار انسانی اعمال کی تشکیل کرنے لگے۔ شاکلِ انسانی کی اس تبدیلی نے انسانی زندگی کے تمام عملی نقشوں کو یکسر بدل دیا۔ حتیٰ کہ جو لوگ بظاہر اب بھی خدا کو مانتے تھے، وہ بھی اس عام فکری طوفان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
جدید ذہن کو پیدا کرنے میں لمبی مدت اور سینکڑوں اشخاص کا عمل شامل ہے۔ تاہم علامتی طور پر سر آئزک نیوٹن 1642 تا 1727 کو اس دور کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ نیوٹن نے شمسی نظام کا مطالعہ کیا۔ اس نے اس بات کی تحقیق کی کہ سورج، چاند اور سیارے کس طرح حرکت کرتے ہیں۔
فلکیاتی مظاہر کی تشریح اس نے میتھمیٹکس کے قواعد کے ذریعے کی۔ اس نے بتایا کہ یہاں ایک قانونِ تجاذب یعنی لاء آف گریویٹیشن ہے، جس کی پابندی میں یہ اجرام خلائے بسیت میں حرکت کر رہے ہیں۔ قدیم زمانے میں سادہ طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ سورج، چاند کی گردش اور دوسرے تمام واقعات مقدراتِ خداوندی کے تحت پیش آتے ہیں۔ قدیم انسان اس سے ناآشنا تھا کہ اپنے گرد و پیش ظہور میں آنے والے ان واقعات کو قانونِ فطرت یعنی لاء آف نیچر کی مادی اصطلاحوں میں بیان کرے۔
نیوٹن کی تحقیقات کی اشاعت نے پورے انسانی عقیدے کو متزلزل کر دیا۔ مزید تحقیق کے بعد جب معلوم ہوا کہ زمین و آسمان کے تمام واقعات فطرت کے ایسے قوانین کے تحت ظاہر ہو رہے ہیں جن کو علم الحساب کی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے، تو قدیم اعتقادیات کی بنیاد بالکل منہدم ہو گئی۔ جدید مفکرین نے اعلان کر دیا کہ واقعات اگر فطرت کے اسباب کے تحت پیش آتے ہیں تو وہ فوق الفطرت اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔ If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes.
نیوٹن کے بعد مفکرین کا ایک اور گروہ اٹھا جس نے انسانی ذہن کی نئی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کیا۔ اس گروہ میں نمائندہ شخصیت چارلس ڈارون 1802 تا 1882 کی ہے۔ نیوٹن نے طبعی دنیا یعنی فزیکل ورلڈ کو قانونِ فطرت کے تحت حرکت کرتا ہوا دکھایا تھا۔ ڈارون نے بتایا کہ حیاتیاتی دنیا یعنی بایولوجیکل ورلڈ بھی اسی طرح قانونِ فطرت کے تحت سفر کر رہی ہے۔
ابتدائی جرثومہ حیات سے لے کر انسان تک جتنے بھی حیاتیاتی مظاہر اس دنیا میں دکھائی دیتے ہیں، وہ سب کے سب معلوم فطری قانون کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔ ڈارون کے اس نظریے پر اس کے بعد بے شمار مزید تحقیقات ہوئیں۔ اگرچہ اس کے ابتدائی نظریے میں بعض تعدیلات کی گئیں، مگر بنیادی طور پر حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ تمام جدید علماء کے نزدیک سائنسی مسلمہ قرار پایا۔ اس کے نتیجے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ساری دنیا میں یہ بن گیا کہ انسان کی تخلیق کا خالق سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ اس قانونِ فطرت کا مظہر ہے جس کو عام طور پر ارتقا یعنی ایولوشن کہا جاتا ہے۔ جدید مفکرین کا تیسرا گروہ وہ ہے جس کی نمائندگی کا مقام کارل مارکس 1818 تا 1883 کو حاصل ہوا۔ مارکس نے انسانی تاریخ کے سفر کا ایک مادی فلسفہ پیش کیا جس کو اس نے تاریخ کی علمی تعبیر یعنی سائنٹیفک انٹرپریٹیشن کا نام دیا۔ اس نے کہا کہ تاریخ میں خود اس کے اپنے اندرونی قانون کے تحت طبقاتی جدوجہد، کلاس سٹرگل جاری رہتی ہے، اور یہی طبقاتی جدوجہد تاریخ کے حال اور مستقبل کی صورت گری کرتی ہے۔
قدیم زمانے کا انسان تاریخ کو تقدیر کا کرشمہ سمجھتا تھا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ ایک برتر خدا ہے جو تاریخی واقعات کو کسی ایک یا دوسری صورت میں تشکیل دیتا ہے۔ مگر مارکس کے مذکورہ فلسفہ اور اس فلسفے کی بنیاد پر پیدا ہونے والے بے شمار لٹریچر نے ساری دنیا کے انسانوں کو شعوری یا غیر شعوری طور پر متاثر کیا۔ لوگ تاریخ کو ایک غیر خدائی واقعے کی نظر سے دیکھنے لگے، جبکہ اس سے پہلے وہ اس کو خدائی واقعے کی نظر سے دیکھتے تھے۔