موجودہ زمانے کے علماء کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے مغربی قوموں کے غلبے کو صرف سیاسی غلبے کے ہم معنی سمجھا، حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ یہ ایک طاقتور تہذیب کا یلغار تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سیاسی فتح و شکست اس معاملے میں محض اضافی ہے؛ ان قوموں کو بالفرض سیاسی جنگ کے میدان میں شکست ہو جائے، تب بھی ان کا غلبہ باقی رہے گا، جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پیش آیا۔ 13ویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا پر تاتاریوں کا غلبہ محض ایک شمشیری غلبہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر دوبارہ شمشیر کے میدان میں انہیں شکست دے دی جائے تو عین اسی وقت ان کا غلبہ بھی ختم ہو جاتا تھا، مگر مغربی اقوام کا غلبہ اس سے زیادہ تھا کہ اس کا فیصلہ کسی میدان جنگ میں کیا جا سکے۔
مغربی قوموں کے غلبہ و ترقی کا اصل راز یہ تھا کہ انہوں نے شاکلہ انسانی کو تبدیل کر دیا تھا۔ ان کے لائے ہوئے علمی انقلاب نے ساری دنیا کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اسی طرح سوچیں جس طرح اہل مغرب سوچتے ہیں، اور چیزوں کے بارے میں اسی طرح رائے قائم کریں جس طرح اہل مغرب رائے قائم کرتے ہیں۔ اس تبدیلی نے میدانِ مقابلے کو جنگ کے بجائے فکر کے میدان میں پہنچا دیا۔ اہل مغرب سے کامیاب مقابلے کے لیے ضروری تھا کہ انہیں فکر کے میدان میں شکست دی جائے۔
اہل مغرب پر فتح پانے کے لیے، وسیع تر معنوں میں شاکلہ انسانی کو دوبارہ بدلنے کی ضرورت تھی، مگر علماء سیاسی جھگڑوں میں مشغول ہونے کی وجہ سے نہ اس راز کو سمجھ سکے اور نہ اس کے لیے انہوں نے کوئی حقیقی عمل انجام دیا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.