Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Ulema aur Daur e Jadid
Ulema aur Daur e Jadid

پیغمبر کی مثال

Urdu · 9 min

عبداللہ ابن عباس مکی دور کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک روز قریش کے اکابر کعبے کے پاس جمع ہوئے۔ انہوں نے باہم مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ اپنا ایک شخص بھیج کر محمد کو بلاؤ، تاکہ ان سے بات کر کے معاملات طے کیے جا سکیں۔ پیغام پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں آئے۔ گفتگو شروع ہوئی تو قریش کے نمائندے نے کہا کہ آپ ہماری قوم کے لیے مصیبت بن گئے ہیں۔

آپ نے ہمارے آباء کو گالی دی، ہمارے دین پر عیب لگایا، ہماری عقلوں کو بیوقوف بتایا، اور ہمارے اصناف اور ہمارے اسنام کو گالیاں دیں۔ لقد شتمت الآباء وعبت الدين وسفحت الأحلام وشتمت الآلهة اس قسم کی کچھ اور باتیں بیان کرنے کے بعد قریش کے نمائندے نے آپ سے کہا کہ آپ شتم اور تایب اور تصفیح کا یہ کام چھوڑ دیں۔ اس کے عوض آپ جو کچھ چاہیں، وہ سب ہم آپ کو دینے کے لیے تیار ہیں۔ حتیٰ کہ اگر آپ بادشاہت چاہتے ہوں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔

وإن كنت تريد ملكًا ملّكناك علينا السیرت النبویہ من البدایة والنهاية لابن کثیر، صفحہ 479۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی اس پیشکش کو قبول نہیں فرمایا اور بدستور اپنے تبلیغی کام میں لگے رہے، جبکہ معلوم ہے کہ بعد کو مدینہ جا کر آپ نے وہاں اسلام کی حکومت قائم کی۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ آپ نے مکے میں حکومت کی پیشکش کو کیوں قبول نہیں کر لیا؟ جو اسلامی حکومت آپ نے پندرہ برس بعد مدینے میں قائم کی، اس اسلامی حکومت کو آپ نے پندرہ برس پہلے ہی مکے میں کیوں نہ قائم کر لیا؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت اس طرح قائم نہیں ہوتی کہ ایک اسلامی شخصیت کسی نہ کسی طرح حکومت کی کرسی پر بیٹھ جائے۔ حکومت کے قیام کا نہایت گہرا تعلق خارجی حالات سے ہے۔ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے وہ معاشرہ درکار ہے جہاں لوگوں کے اندر اسلام کے حق میں آمادگی پیدا ہو چکی ہو، جہاں وہ سیاسی اسباب جمع ہو چکے ہوں جو کسی اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ مکی دور میں مکے کے اندر اس قسم کے موافق اسباب جمع نہیں ہوئے تھے، اس لیے آپ نے مکے میں حکومت قائم کرنے کی کوشش نہیں کی۔

بعد کو مدینے میں یہ اسباب جمع ہو گئے، اس لیے وہاں آپ نے باقاعدہ طور پر اسلام کی حکومت قائم کر دی۔ دونوں جگہوں کا فرق اس سے واضح ہے کہ مکے میں ابو لہب کی بیوی کے لیے ممکن تھا کہ وہ آپ کی مذمت میں اس قسم کے اشعار کہے اور ان کو مکے کی آبادی میں چل پھر کر گائے کہ محمد قابل مذمت ہیں۔ ہم نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ مزمما عصينا وأمره أبيْنا دوسری طرف نبوت کے تیرہویں سال جب آپ اپنے رفیق ابوبکر ابن ابی قحافہ کے ساتھ مدینہ پہنچے تو وہاں دونوں کا استقبال انطلقا آمنين مطاعين مسند احمد حدیث نمبر 13318 کے الفاظ سے کیا گیا، یعنی آپ دونوں امن کے ساتھ ہمارے سردار کی حیثیت سے مدینے میں داخل ہوں۔

مدینے کے بچوں نے آپ کی آمد پر یہ اشعار پڑھے کہ اے ہماری طرف بھیجے جانے والے! آپ ایک قابل اطاعت بات لے کر آئے ہیں۔ أيها المبعوث فينا جئت بالأمر المطاع اسی نوعیت کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بھی ملتی ہے۔ حضرت موسیٰ کی قوم یعنی بنی اسرائیل کے لیے مقدر تھا کہ اس کو دوبارہ اقتدار دیا جائے، جس طرح اس سے پہلے اس کو اقتدار دیا گیا تھا۔

المائدہ سورہ نمبر 5 آیت 20 تا 23۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی قیادت میں بنی اسرائیل نے امالخ کے خلاف جہاد کیا اور ان کو زیر کر کے شام و فلسطین کے علاقے میں اپنی حکومت قائم کی، جو ایک عرصے تک باقی رہی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس حکومت کا موقع تو انہیں نصف صدی پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے ہی میں حاصل ہو چکا تھا، پھر اس کو نصف صدی تک مؤخر کیوں کیا گیا؟ حضرت موسیٰ کے زمانے میں مصر میں یہ واقعہ ہوا کہ وہاں کا حکمران فرعون اور اس کی پوری فوجی طاقت سمندر میں غرق کر دی گئی۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ کے لیے مصر میں میدان خالی تھا۔ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مصر کی راجدھانی ممفیس واپس آ کر وہاں کے خالی تخت پر قبضہ کر کے بیٹھ سکتے تھے۔ اور فرعون اور اس کے لشکر کی معجزاتی ہلاکت کے بعد ان کے حق میں ملک میں مرعوبیت کی جو فضا بنی تھی، اس کے تحت یقینی تھا کہ لوگ ان کی حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔ مگر حضرت موسیٰ نے ایسا نہیں کیا۔

وہ مصر کے خالی سیاسی میدان کو چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ صحرائے سینا میں چلے گئے۔ وہاں چالیس سال، 1400 تا 1440 قبل مسیح تک، فاران اور شرخ اردن کے درمیان بنی اسرائیل کے لوگ صحرا کی مشقتوں کو جھیلتے رہے، یہاں تک کہ ان کے زیادہ عمر کے تمام افراد مر گئے اور صرف وہ نئی نسل باقی رہی جو صحرائی ماحول میں پرورش پا کر تیار ہوئی تھی۔ اس تاخیر کا واحد راز یہ ہے کہ مصر میں بنی اسرائیل کی جو نسل تھی، وہ مخصوص اسباب سے اخلاقی زوال کا شکار ہو چکی تھی۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ اپنے اور ہارون کے سوا کسی اور کے اوپر مجھے کوئی بھروسہ نہیں۔

المائدہ سورہ نمبر 5 آیت 25۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی پوری قوم کو وادی تیہ میں ڈال دیا گیا تاکہ ان کے تمام ادھیڑ اور بوڑھی عمر کے لوگ ختم ہو جائیں اور نئی نسل صحرائی حالات میں تربیت پا کر اپنے اندر قابل اعتماد سیرت پیدا کرے اور پھر اقتدار پر قبضہ کر کے اسلامی حکومت قائم کر سکے۔ مذکورہ دونوں واقعات واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ حکومت صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جبکہ اس کے حق میں ضروری اجتماعی حالات فراہم ہو چکے ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال یہ بتاتی ہے کہ اگر آبادی میں حقیقی سطح پر موافق فضا نہ بنی ہو تو پیغمبر بھی وہاں اپنی حکومت قائم نہیں کر سکتا۔

اگر وہ اس قسم کی ضروری فضا کے بغیر حکومت قائم کرے تو قائم ہونے کے جلد ہی بعد اس کا تختہ الٹ دیا جائے گا اور آخر کار کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ حضرت موسیٰ کی مثال بتاتی ہے کہ حکومت کے قیام کے لیے باکردار افراد کی ایک مضبوط ٹیم کا ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اگر ایسی ٹیم نہ ہو تو خواہ ملک میں سیاسی خلا پایا جائے اور خواہ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے بیک وقت دو پیغمبر موجود ہوں، تب بھی وہاں اسلامی حکومت کا قیام ممکن نہیں۔ اس پیغمبرانہ نظیر کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے میں ساری مسلم دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرو کے نام پر جو ہنگامے جاری کیے گئے، وہ صرف نادانی کی چھلانگ تھے، جس کا آخری نتیجہ صرف یہ ہو سکتا تھا اور یہی ہوا کہ آدمی حادثے کا شکار ہو کر اسپتال میں پہنچ جائے اور منزل بدستور دور کی دور پڑی رہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.