← Ulema aur Daur e JadidUlema aur Daur e Jadid
دوسری عالمی جنگ کے بعد
Urdu · 12 min
علماء کی غیر ضروری سیاسی اور حربی سرگرمیاں تو مغربی قوموں کو زیر نہ کر سکیں، تاہم خود مغربی قوموں کی باہمی جنگ، جو دوسری عالمی جنگ 1939-45 کہی جاتی ہے، اس نے قوموں کو فوجی اعتبار سے اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے بیرونی ملکوں پر اپنے سیاسی قبضے کو باقی رکھنا سخت دشوار ہو گیا۔ چنانچہ انہوں نے بیسویں صدی کے وسط میں ان ملکوں سے اپنا سیاسی قبضہ ہٹا لیا۔ اگرچہ ان کا تہذیبی اور اقتصادی غلبہ پھر بھی ان ملکوں پر باقی رہا۔ اس کے نتیجے میں ایشیا اور افریقہ میں تقریباً 50 مسلم ملک وجود میں آ گئے، جو سیاسی اعتبار سے آزاد حیثیت رکھتے تھے۔
یہاں علماء کو وہی کردار ادا کرنا تھا جو اسلام میں ان کے لیے مقرر کر دیا گیا تھا، یعنی سیاست کو اہلِ سیاست کے حوالے کر کے وہ اپنے آپ کو اشاعتِ علوم، دعوت و تبلیغ، اور اصلاح و تعمیر کے کام میں لگائیں۔ مگر دوبارہ انہوں نے یہ کیا کہ غیر ضروری طور پر وہ سیاست کے میدان میں کود پڑے۔ پہلے ان کی سیاست کا عنوان آزادی تھا، اب انہوں نے اپنی سیاست کا عنوان قانونِ اسلامی کے نفاذ کو بنایا۔ مصر، پاکستان، سوڈان، شام، الجزائر، انڈونیشیا وغیرہ مختلف ملکوں میں علماء نے ایسی جماعتیں بنائیں جن کا مقصد اسلامی قانون کی حکومت قائم کرنا تھا۔
اس سیاست نے دوبارہ مسلم ملکوں کو میدانِ کارزار بنا دیا، اس فرق کے ساتھ کہ پہلے اگر مسلم علماء کا ٹکراؤ غیر مسلم قوموں سے تھا تو اب ان کا ٹکراؤ خود مسلمانوں کے ایک طبقے کے ساتھ پیش آ گیا۔ مسلم جماعتیں ہر ملک میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے لگیں۔ علماء کی ان کوششوں سے ایسا تو نہیں ہوا کہ کسی مسلم ملک میں خالص شرعی انداز کی حکومت قائم ہو جائے، البتہ اس کا یہ نتیجہ ضرور ہوا کہ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگے۔ پہلے اگر غیر مسلم طاقت مسلمان کو مارتی تھی تو اب خود مسلمان ایک دوسرے کو مارنے لگے۔
اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ ہر جگہ مسلم معاشرہ تخریبی سرگرمیوں کا اکھاڑا بن گیا۔ مسلم ملکوں کے علماء اگر یہ کرتے کہ وہ عملی سیاست سے الگ رہ کر مسلمانوں کی اصلاح کرتے، ان کے اندر اسلام کی روح بیدار کرتے، جدید معیار پر اسلامی لٹریچر تیار کر کے مسلم نسلوں کے اندر اسلام کی طلب پیدا کرتے، اگر وہ اس قسم کے کام کرتے تو وہ زیادہ بہتر طور پر اسلامی حکومت کے قیام میں مددگار ہو سکتے تھے۔ وہ جب مسلم معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنا دیتے تو اس کے بعد اس کے اندر سے جو نظامِ حکومت ابھرتا، وہ یقیناً اسلامی نظامِ حکومت ہوتا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: كَمَا تَكُونُونَ يُوَلَّىٰ أَوْ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ مسند الشہاب القضائی، حدیث نمبر 577۔ مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کے نفاذ میں ناکامی کا اصل سبب سیکولر حکمرانوں کا ظلم یا دشمنانِ اسلام کی سازشیں نہیں ہیں، جیسا کہ اسلام پسند حضرات ہمیشہ کہا کرتے ہیں۔
اس کا اصل سبب خود علمبردارانِ اسلام کی یہ غلطی ہے کہ وہ معاشرے کو ضروری حد تک تیار کیے بغیر اسلامی قانون کے نفاذ کی مہم لے کر کھڑے ہو گئے۔ پاکستان کا تجربہ واضح طور پر اس کی تصدیق کرتا ہے۔ پاکستان میں ایک سے زیادہ بار اسلام پسندوں کو حکومت پر جزوی یا کلی قبضے کا موقع ملا، مگر وہ کسی بھی درجے میں وہاں شریعت کو نافذ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مثلاً مفتی محمد محمود کے زمانہ 1970-71 میں صوبہ سرحد کی حکومت، جنرل محمد ضیاء الحق کے زمانہ 1977-88 میں پورے ملک کی حکومت۔
حضرت عائشہ کی ایک روایت اس معاملے کے اوپر نہایت صحیح تبصرہ ہے۔ صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن یعنی باب تالیف القرآن میں ایک طویل روایت آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: إِنَّمَا نَزَلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنَ الْمُفَصَّلِ فِيهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ حَتَّىٰ إِذَا اسْحَابَ النَّاسُ إِلَى الْإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَيْءٍ لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ لَقَالُوا لَا نَدَعُوا الْخَمْرَ أَبَدًا وَلَوْ نَزَلَ لَا تَزْنُوا لَقَالُوا لَا نَدَعُوا الْزِنَا أَبَدًا صحیح البخاری، حدیث نمبر 4707۔ قرآن میں پہلے مفصل کی سورتیں اتریں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا، یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف رجوع ہو گئے تو حلال و حرام کے احکام اترے۔
اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب چھوڑ دو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے۔ مسلم ملکوں کے بارے میں علماء نے یہ فرض کر لیا کہ چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لیے وہ اسلامی قانون چاہتے ہیں۔ یہ مکمل طور پر ایک غلط اندازہ تھا۔
موجودہ مسلم نسلوں کی حیثیت ایک قومی مجموعے کی ہے، نہ کہ حقیقتاً ایک دینی گروہ کی۔ حتیٰ کہ ان میں جو لوگ نماز، روزہ جیسے اعمال کرتے ہیں یا حج اور عمرہ ادا کرتے ہیں، ان کے بارے میں بھی یہ اندازہ سراسر غلط ہوگا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حکومت کا اقتدار علماء کے ہاتھ میں ہو اور وہ ان کے اوپر شریعت کے قوانین کا نفاذ کریں۔ مسلم ملکوں میں علماء کی غیر حقیقت پسندانہ سیاست نے جو صورتحال پیدا کی ہے، اس کا خلاصہ حضرت عائشہ کی زبان میں یہ ہے کہ علماء لوگوں کے اندر رجوع اور آمادگی پیدا کیے بغیر شراب اور زنا کے احکام نافذ کرنا چاہتے ہیں، اور وہاں کے عوام ان کو جواب دے رہے ہیں کہ ہم تو تمہارے اس قانون کو کبھی اپنے اوپر نافذ نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے پہلے 11 جنوری 1827 کو سید احمد بریلوی اور ان کے رفقاء نے پشاور کے علاقے میں اسلامی حکومت قائم کی تھی۔
سید صاحب کو اسم امیرالمومنین منتخب کیا گیا تھا، مگر بہت جلد آپس میں اختلاف ہوا، حتیٰ کہ مقامی مسلمانوں نے سید صاحب کے مقرر کردہ عالموں کو قتل کر دیا۔ اس طرح یہ اسلامی حکومت بننے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ معاشرے کی تیاری کے بغیر اسلامی حکومت قائم کرنے کا یہ ناکام تجربہ بعد والوں کے لیے چشم کشا نہ بن سکا۔ وہ آج بھی اسی تجربے کو دہرانے میں مصروف ہیں جو ڈیڑھ سو سال پہلے اپنا اپنانا ممکن العمل ہونا ثابت کر چکا ہے۔
وہ آج بھی اسی تجربے کو دہرانے میں مصروف ہیں جو ڈیڑھ سو سال پہلے اپنا ناممکن العمل ہونا ثابت کر چکا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً پوری مسلم دنیا میں اسلامی انقلاب کی تحریکیں چلائی گئیں۔ ان تحریکوں کے قائد علماء اور اسلام پسند مفکرین۔ ان تحریکوں کے قائد علماء اور اسلام پسند مفکرین تھے۔
ایران، پاکستان، مصر، سوڈان، شام، الجزائر، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور دوسرے بہت سے مسلم علاقوں میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مگر یہ لوگ اپنے دور مگر یہ لوگ اپنے دور تحریک اور دور اقتدار دونوں میں صرف اسلام کو بدنام کرنے کا سبب بنے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حکومت الہیہ اسلامی نظام اور نفاذ شریعت کے نام پر اس دور میں جو تحریکیں اٹھیں وہ صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والی یعنی کاؤنٹر پروڈکٹو ثابت ہوئی ہیں۔ یہ ایک عبرت ناک حقیقت ہے کہ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں بہت سے بڑے بڑے دماغوں نے یہ اعلان کیا کہ اسلام موجودہ زمانے کے انسانی مسائل کا حل ہے۔
مثلاً سوامی ویویکانند 1863-1902، جارج برناٹ شاہ 1856-1950، ارنلڈ ٹائن بی 1889-1975 وغیرہ۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں کسی بھی قابل ذکر عالمی شخصیت کی زبان سے اس قسم کا اعتراف سنائی نہیں دیتا۔ اس کی وجہ موجودہ زمانے کے نام نہاد انقلابی رہنماؤں کی غلط نمائندگی ہے۔ اس سے پہلے عالمی مفکرین کے سامنے اسلام کے دور اول کی تاریخ تھی۔
اس سے متاثر ہو کر وہ اسلام کا شاندار تصور قائم کیے ہوئے تھے۔ مگر موجودہ زمانے کے علماء اور رہنماؤں نے اسلام کے نام پر جو بے معنی تحریکیں اٹھائیں وہ صرف انسانیت کے مصائب میں اضافے کا سبب بنیں۔ زمانہ حاضر کے ان نام نہاد نمائندگان اسلام کے نمونوں کو دیکھ کر لوگ اسلام سے بیزار ہو گئے۔ ان کا یہ تاثر ختم ہوگیا کہ اسلام موجودہ زمانے میں انسانی فلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔