یہ کوئی سادہ سی بات نہیں، بلکہ بہت زیادہ اہم بات ہے۔ اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے، اس کو ہمیں وسیع تر دائرے میں دیکھنا چاہیے۔ قدیم مشرکانہ دور میں انسان مظاہرِ فطرت کی پرستش کرتا تھا۔ یہ چیز سائنس، یعنی علومِ فطرت کے ظہور میں، رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔
علومِ فطرت کے ظہور کے لیے فطرت کی تحقیق ضروری تھی۔ اور فطرت چونکہ انسان کے لیے معبود کا درجہ رکھتی تھی، اس لیے انسان فطرت کو پرستش کا موضوع بنائے ہوئے تھا۔ یہ مزاج فطرت کو تحقیق و تسخیر کا موضوع بنانے میں مستقل رکاوٹ تھا۔ اسلام نے توحید کی بنیاد پر فکری انقلاب برپا کر کے سائنسی ترقی کا دروازہ کھولا۔
اس سلسلے میں علومِ سائنس، یعنی علومِ فطرت کی ترقی کے تین دور ہیں۔ نمبر 1: ذہنی رکاوٹ، یعنی مینٹل بلاک کو توڑنا۔ یہ کام مکے سے بغداد 610-1258 کے تاریخی مرحلے میں ہوا۔ نمبر 2: نئے فکر کی بنیاد پر فطرت کی عملی تحقیق و تجربے کا دروازہ کھولنا۔
یہ کام مسلم اسپین کے دور 711-1492 میں شروع ہوا۔ نمبر 3: اس آغاز کو آخری تکمیل تک پہنچانا۔ یہ کام 16ویں صدی سے لے کر 19ویں صدی تک کے دور میں مغربی یورپ میں انجام دیا گیا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ جو— یہاں یہ سوال ہے کہ جو کام مسلم دنیا میں شروع ہوا، اور اس نے مسلم دنیا میں اپنے دو مرحلے بھی طے کر لیے، اس کی تکمیل یورپ میں پہنچ کر کیوں ہوئی؟
اس کی ایک نفسیاتی وجہ غالباً یہ تھی کہ بغداد کی مسلم سلطنت اور اسپین کی مسلم سلطنت کے درمیان اول روز سے رقابت پیدا ہو گئی۔ چنانچہ بغداد نے کبھی سنجیدہ طور پر اسپین کے کام کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ غالباً اسی رقابت کا یہ اثر تھا کہ ہندوستان یا کسی دوسرے ملک میں بھی کسی قابلِ ذکر شخصیت نے یہ نہیں سوچا کہ ہمیں اسپین کی ترقیوں سے واقف ہو کر اسے آگے بڑھانا چاہیے۔ یہ حقیقت اگر ہم عصر— یہ حقیقت اگر ہم عصر مسلم حکمرانوں اور مسلم رہنماؤں پر واضح ہوتی، اور وہ لوگ اس سلسلے میں مثبت اقدام کرتے، تو اسپین کے زوال کے بعد جو علماء بھاگ کر مغربی یورپ میں گئے، وہ اس کے بجائے مسلم دنیا کا رخ کرتے، اور پھر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا تسلسل یورپ میں جاری ہونے کے بجائے مسلم دنیا میں جاری ہو جاتا۔
اور جس طرح جدید سائنسی دور کا آغاز کرنے کا کریڈٹ اسلام کو حاصل ہے، اسی طرح اس دور کی تکمیل کا کریڈٹ بھی اسلام کو حاصل ہوتا۔ اس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تاریخ کا نقشہ اس سے بالکل مختلف ہوتا جو موجودہ دور میں ہمیں نظر آتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.