Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Ulema aur Daur e Jadid
Ulema aur Daur e Jadid

اورنگزیب عالمگیر

Urdu · 9 min

میرا خیال ہے کہ یہ روایت سب سے پہلے قابلِ لحاظ درجے میں اورنگزیب عالمگیر 1618 تا 1707 کے زمانے میں ٹوٹی۔ اورنگزیب اگرچہ شاہی خاندان میں پیدا ہوا، مگر وہ پورے معنوں میں ایک عالم تھا؛ اس کا باپ شاہجہاں اس کے بجائے دارا شکوہ کو اپنا ولی عہد بنانا چاہتا تھا۔ اس طرح حالات اورنگزیب کو اس طرح لے جا رہے تھے کہ وہ بادشاہ کا کردار ادا کرنے کے بجائے ایک عالم کا کردار ادا کرے، مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا۔

اس نے 1658 میں اپنے باپ شاہجہاں کو تخت سے معزول کر کے آگرہ کے قلعے میں قید کر دیا، اور اپنے بھائی دارا شکوہ کو 1659 میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد تقریباً نصف صدی تک وہ مغل سلطنت کا مالک بنا رہا۔ تاج سے محرومی کے باوجود اورنگزیب کو بہت سے اعلیٰ وسائل حاصل تھے۔ اگر وہ بادشاہ کا رول ادا کرنے کے بجائے عالم کا رول ادا کرنے پر راضی ہو جاتا تو وہ اتنا بڑا کام کر سکتا تھا کہ آئندہ کئی صدیوں تک آنے والے علماء کے لیے وہ مشعل راہ کا کام دیتا۔

اورنگزیب کا زمانہ وہ زمانہ ہے جبکہ یورپ میں علمِ جدید کی بنیادیں رکھی گئیں، اس کے اثرات ہندوستان کے سواحل تک پہنچ چکے تھے، مگر اورنگزیب اس سے بے خبر رہ کر وقتی سیاست میں پڑا رہا۔ شاہجہاں نے ہندوستان میں تاج محل بنایا تھا، اورنگزیب کے لیے موقع تھا کہ وہ ہندوستان میں علم محل کی تعمیر کرے، ملک کا سیاسی ایمپائر دارا شکوہ کے حوالے کر کے وہ ملک میں ایک ایجوکیشنل ایمپائر بنا سکتا تھا۔ اگر اورنگزیب ایسا کرتا تو وہ اسلام اور ملتِ اسلام کو اس سے بہت زیادہ فائدہ پہنچاتا جو اس نے سیاست اور جنگ کے راستے سے پہنچانے کی کوشش کی، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اورنگزیب اگر دکن کا سفر کرنے کے بجائے یورپ کا سفر کرتا تو اس کو معلوم ہوتا کہ وہ ایک خلافِ زمانہ عمل میں مبتلا ہے۔

وہ شمشیر کی سیاست کے ذریعے دنیا میں اسلام کو سربلند کرنا چاہتا ہے، حالانکہ اب دنیا میں اس دور کا آغاز ہو چکا ہے جو بالآخر یہاں پہنچے گا کہ علم کی سیاست لوگوں کے لیے سربلندی کا ذریعہ بن جائے گی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اورنگزیب اور اس زمانے کے دوسرے علماء نہ صرف یورپ کی ترقیوں سے بے خبر تھے، بلکہ وہ اس سے پہلے کی ان ترقیوں سے بھی ناواقف تھے جو مسلمان اسپین کے دورِ حکومت 1492-711 تا 1492 میں کر چکے تھے۔ اسپین میں جب مسلم سلطنت کو زوال ہوا تو وہاں کے علماء اور سائنسدان اسپین سے نکل کر باہر جانے لگے۔ اس وقت ترکی میں طاقتور مسلم خلافت 1300 تا 1924 قائم تھی۔

اس زمانے میں غالباً کچھ مسلم سائنسدان بھاگ کر ترکی گئے، مگر وہاں کے دربار میں انہیں کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ مسلم اسپین کے زوال کے بعد 1526 میں ہندوستان میں مغل سلطنت قائم ہوئی، مگر مغل حکمرانوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ قدیم مسلم اسپین کے کچھ سائنسدانوں کو بلائیں اور علمی ترقی کا وہ کام ہندوستان میں جاری کریں جس کا سلسلہ اسپین میں منقطع ہو گیا تھا۔ تحقیق و ریسرچ کا یہ کام صرف حکومت کی سرپرستی کے تحت ہو سکتا تھا۔ چنانچہ ان سائنسدانوں کو جب مسلم دنیا میں مواقع نہیں ملے تو وہ مغربی یورپ میں داخل ہونے لگے۔

وہاں انہیں بادشاہوں کی طرف سے سرپرستی حاصل ہوئی۔ یہی سبب ہے جس کی بنا پر اسپین کے عمل کی تکمیل مسلم دنیا میں نہ ہو سکی، وہ یورپ کی سرزمین پر ہوئی۔ اورنگزیب بھی اپنی بے خبری اور سیاست سے غیر معمولی دلچسپی کی بنا پر اپنے زمانے میں اس رخ پر کوئی اقدام نہ کر سکا۔ آخری مرحلے میں سائنس کی ترقی کا کریڈٹ تمام تر یورپ کے حصے میں چلا گیا۔

جدید دور کے تمام ابتدائی اسباب اور اس کے ابتدائی مظاہر اورنگزیب کے زمانے میں پیدا ہو چکے تھے۔ روایتی گھڑی کے مقابلے میں اسپرنگ دار، یعنی اسپرنگ ڈریون گھڑی کا ابتدائی ماڈل 1500 میں جرمنی میں تیار کر لیا گیا تھا۔ جغرافیہ اور بحریات میں ترقی کی بنا پر پرتگال کا واسکو ڈی گاما 1499 میں کالی کٹ کے ساحل پر اتر چکا تھا، اور اس طرح اس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری راستہ کھول دیا تھا۔ 1510 میں پرتگال نے گوا پر قبضہ کر لیا تھا۔

برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی 1600 میں بنی، اور فرنچ ایسٹ انڈیا کمپنی 1664 میں قائم ہوئی۔ مگر اورنگزیب اپنی سیاسی مشغولیت کی بنا پر ان واقعات سے بے خبر رہا، حالانکہ یہ واقعات بتا رہے تھے کہ آئندہ نہ صرف برصغیر ہند بلکہ سارے عالمِ اسلام کے لیے جو مسئلہ پیدا ہونے والا ہے، وہ اپنی نوعیت میں خارجی ہے نہ کہ داخلی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 9، صفحہ 392۔ اورنگزیب کی پیدائش سے بہت پہلے، دوسری صدی عیسوی کے آخر میں، چین میں پرنٹنگ کا ابتدائی طریقہ دریافت ہو چکا تھا۔

اس میں ترقی ہوتی رہی، یہاں تک کہ 1620 میں ایمسٹرڈیم میں مشہور ڈچ پریس بنا لیا گیا۔ پریس اولاً لکڑی کے ہوا کرتے تھے، پھر لکڑی اور لوہے کے ملے جلے پریس بنے، یہاں تک کہ 1795 میں انگلینڈ میں میٹل پریس تیار کیا گیا جو مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا تھا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 14، صفحہ 1054۔ اورنگزیب کا کمال یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کتابت کر کے قرآن تیار کرتا تھا، مگر اورنگزیب کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس سے پہلے 1455 میں گوٹن برگ نے بائبل کا پہلا نسخہ پریس میں چھاپ کر عیسائیت کے مشن کو دستکاری کے دور سے نکال کر مشینی دور میں داخل کر دیا ہے۔

اورنگزیب اگر اس واقعے کو جانتا تو اس کو معلوم ہوتا کہ قرآن کو ہاتھ سے لکھنے کے بجائے اس کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ملک میں پرنٹنگ پریس کی صنعت قائم کرے۔ انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی 1571 میں قائم ہوئی۔ پیرس یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی اس سے بھی پہلے بارہویں صدی عیسوی میں قائم ہو چکی تھیں۔ اورنگزیب کا زمانہ سترہویں صدی کا زمانہ ہے۔

اس کے لیے کرنے کا زیادہ اہم کام یہ تھا کہ وہ ہندوستان میں ہر قسم کے علوم کی ایک وسیع یونیورسٹی بنائے۔ اسی طرح اس کو یہ کرنا تھا کہ وہ وقت کے موضوعات پر ریسرچ کے ادارے کھولے۔ وہ دہلی میں نیا بیت الحکمت کھول کر یورپ کے علوم کے ترجمے کرائے۔ وہ علماء کی ایک اکیڈمی بنائے جو وقت کے علوم کو حاصل کرے اور اس پر ریسرچ کرے۔

مگر وہ اس قسم کا کوئی بھی کام نہ کر سکا، اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وہ تقسیمِ کار پر راضی نہیں ہوا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.