Maulana Wahiduddin Khan
16 min left
0:00

← Ulema aur Daur e Jadid
Ulema aur Daur e Jadid

شاہ ولی اللہ دہلوی

Urdu · 16 min

علماء کے کردار کا دوسرا دور وہ ہے جس کی علامت شاہ ولی اللہ دہلوی 1703 تا 1762 کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے بلاشبہ کچھ مفید کام کیے، مثلاً قرآن کا فارسی زبان میں ترجمہ، مدرسہ رحیمیہ قائم کرنا، حدیث کے علم کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا، حجت اللہ البالغہ اور اس قسم کی دوسری قیمتی کتابوں کی تصنیف وغیرہ۔ مگر اس قسم کے مختلف کام جو شاہ ولی اللہ نے انجام دیے، وہ سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے تحفظاتی کام ہیں، نہ کہ قائدانہ کلام، نہ کہ قائدانہ کام۔ تحفظاتی خدمت بھی بلاشبہ ایک قابلِ قدر خدمت ہے، مگر تحفظاتی کردار اور قائدانہ کردار میں ایک بنیادی فرق ہے: تحفظ کا تعلق ماضی کی حفاظت سے ہے، اور قیادت کا تعلق مستقبل کی تعمیر سے۔

ان کی تصنیف "حجت اللہ البالغہ" قائدانہ نوعیت کی ایک خدمت قرار دی جا سکتی تھی، بشرطیکہ وہ اسم با مسمی ہوتی۔ مگر جیسا کہ آئندہ وضاحت کی جائے گی، شاہ صاحب کی یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار سے دینِ الہی کی صرف تخلیدی تبیین ہے، وہ دینِ الہی کی عقلی تبیین نہیں۔ تحفظاتی کردار ادا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ آدمی کو ماضی کے اثاثے سے واقفیت ہو۔ مگر جس چیز کو قائدانہ کردار کہا جاتا ہے، اس کی ادائیگی کے لیے مستقبل کو دیکھنے والی نگاہ درکار ہے، کیونکہ قائدانہ کردار ایک شخص حال میں ادا کرتا ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ مستقبل میں برآمد ہوتا ہے۔

اسی لیے تحفظاتی کردار ادا کرنے کے لیے مقلدانہ فکر کافی ہو جاتا ہے۔ مگر قائدانہ کردار ادا کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ آدمی زمانہ شناسی کے ساتھ اعلیٰ مجتہدانہ صلاحیت کا مالک ہو۔ شاہ ولی اللہ نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ "میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں قائم الزمان ہوں"، یعنی یہ کہ اللہ جب نظامِ خیر میں سے کسی چیز کو چاہتا ہے تو وہ مجھ کو اپنی منشا کو پورا کرنے کے لیے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ رأيتني في المنام قائم الزمان، أعني بذلك أن الله إذا أراد شيئًا من نظام الخير جعلني كالجارحة لإتمام مراده.

فیوض الحرمین، صفحہ 111۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاہ ولی اللہ کا یہ خواب صحیح تھا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ بالفعل قائم الزمان ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں قائم الزمان بننا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ دورِ جدید کے سرے پر پیدا ہوئے، وہ اس تاریخی مقام پر تھے جہاں ان کے لیے مقدر تھا کہ وہ وقت کے دھارے کو سمجھیں اور عملِ اسلامی کی ایسی روایت قائم کریں جو ان کے بعد صدیوں تک جاری رہ کر دورِ جدید کو ازسرِ نو اسلام کا دور بنا سکے۔ مگر وہ اپنا یہ تاریخی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔

وہ قائم الزمان بننے کے مقام پر تھے، مگر وہ عملاً قائم الزمان نہ بن سکے۔ شاہ ولی اللہ کا زمانہ 18ویں صدی کا زمانہ ہے۔ اس سے پہلے 17ویں صدی میں یورپ میں اس نئے دور کا بیج پڑ چکا تھا جو بالآخر پوری نوعِ انسانی کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والا تھا۔ وہ دورِ تخلیق کو دورِ سائنس میں تبدیل کر دینے والا تھا۔

پچھلے زمانے میں بشمول دورِ شرک، کائناتی واقعات کی تشریح اعتقادی اصطلاح میں کی جاتی تھی۔ اب تاریخِ بشری میں پہلی بار ایک ایسا دور آ رہا تھا جبکہ کائناتی واقعات کی تشریح خالص اسبابِ مادی کی اصطلاحوں میں کی جائے، دوسرے الفاظ میں یہ کہ شاکلِ انسانی تبدیل ہو جائے۔ مگر شاہ ولی اللہ اپنے قریبی واقعات میں الجھ کر رہ گئے۔ وہ دور رس بنیاد پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے، جو کہ دراصل قائم الزمان ہونے کا تقاضا تھا۔

قدیم زمانے میں واقعات عالم کی تشریح اعتقادی اصطلاحوں میں کی جاتی تھی، یعنی جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کرنے والا خدا ہے۔ اسلام سے پہلے غلبۂ شرک کے زمانے میں اس اعتقادی تشریح کے لیے کئی خداؤں کے حوالے دیے جاتے تھے۔ اسلام کے بعد غلبۂ توحید کا زمانہ آیا تو صرف ایک خدا کی بنیاد پر تمام واقعاتِ عالم کی تشریح کی جانے لگی۔ موجودہ دور پوری معلوم تاریخ میں پہلا دور ہے جبکہ واقعاتِ عالم کو اسبابِ مادی کی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی۔

16ویں صدی عیسوی میں مظاہرِ فطرت کی باقاعدہ علمی تحقیق کی جانے لگی۔ گلیلیو 1564 تا 1642 نے چاند اور سیاروں اور دوسرے مظاہرِ فطرت کا مطالعہ کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ فطرت ایسے محکم قوانین کے تحت عمل کرتی ہے جن کو ریاضیاتی صحت کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ فطرت کی کتاب سب کی سب ریاضی کی صورت میں لکھی گئی ہے۔

The Book of Nature is written in mathematical form. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 15، پیج 530۔ چرچ کی مخالفت کے باوجود یہ طرزِ فکر بڑھتا رہا۔ 17ویں صدی میں کثیر تعداد میں یورپ میں ایسے اہلِ علم پیدا ہوئے جو کائناتی واقعات کی مشینی تشریح کی کوشش میں لگے ہوئے تھے، مثلاً پوپ ٹائیکو براہی، کپلر وغیرہ۔

یہ پروگرام جس کو عام طور پر "مشینی فلسفہ" کہا جاتا ہے، وہ 17ویں صدی کا غالب موضوعِ فکر تھا۔ This program known as the Mechanical Philosophy came to be the dominant theme of 17th century science. Encyclopedia Britannica, volume 14, page 387. 18ویں صدی میں سر آئزک نیوٹن نے اس فکری عمل کو تکمیل تک پہنچا دیا۔

نیوٹن کی کتاب جس کا مختصر نام "Principia" ہے، شاہ ولی اللہ کی وفات سے 75 سال پہلے 1687 میں لاطینی زبان میں چھپی اور 1729 میں انگریزی میں شائع ہوئی۔ اسپیس، ٹائم، گریویٹی اور فورس کے موضوعات پر مختلف سائنسی ذہن پہلے سے کام کر رہے تھے، مگر اس معاملے میں کامیابی کا سہرا نیوٹن کے حصے میں آیا۔ نیوٹن نے اپنی کتاب "Principia" میں یونیورسل گریویٹیشن کے قانون کو ریاضیاتی معقولیت، یعنی mathematical reasoning، کے ذریعے آخری طور پر ثابت کر دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 6، صفحہ 888۔

شاہ ولی اللہ کے زمانے میں ایک نئے انقلاب کے تمام آثار ظاہر ہو چکے تھے۔ اس انقلاب کا فکری پہلو اسلام کے لیے بے حد اہمیت رکھتا تھا۔ وہ حقائق کی تخلیدی تشریح کو رد کر رہا تھا۔ اس کے نزدیک صرف وہ تشریح معقول اور مسلم حیثیت رکھتی تھی جو جدید سائنٹیفک معیاروں پر کی گئی ہو۔

مگر شاہ ولی اللہ ان عالمی تبدیلیوں سے یکسر بے خبر رہے۔ شاہ ولی اللہ واقعات کو دہلی کے محدود دائرے میں دیکھ رہے تھے۔ شاہ ولی اللہ واقعات کو دہلی کے محدود دائرے میں دیکھ رہے تھے اور ان کی اصلاح کی سطحی تدبیریں کر رہے تھے۔ اگر وہ سفر کرتے اور واقعات کا مطالعہ عالمی حالات کے پس منظر میں کرتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اصل مسئلہ ایک عالمی طوفان کا ہے، نہ کہ اس نام نہاد سلطنت کو بچانے کی لاحاصل کوشش کرنے کا جو اپنی عمرِ طویل کو پہنچ کر حکومتِ شاہ عالم از دہلی تا پالم کا مصداق بن چکی ہے۔

شاہ ولی اللہ جس مغل سلطنت کو زندہ کرنا چاہتے تھے، وہ اتنی دیمک زدہ ہو چکی تھی کہ اس نے زندگی کی طاقت کھو دی تھی۔ اس کے باوجود وہ اس سے بڑی بڑی امیدیں قائم کیے ہوئے تھے۔ "التفہیمات الہیہ" میں وہ شاہانِ وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "میں بادشاہوں سے کہتا ہوں کہ اے بادشاہو، اس زمانے میں ملائکہ کی مرضی یہ ہے کہ تم لوگ تلواروں کو کھینچ لو، پھر ان کو نیام میں داخل نہ کرو جب تک اللہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان فرق نہ پیدا کر دے، اور کافروں اور فاسقوں کے سرکش افراد اپنے کمزوروں سے نہ مل جائیں، وہ اپنے لیے کچھ کرنے کے قابل نہ رہیں، اور یہی اللہ کا حکم ہے کہ تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ " وأقول للملوك أيها الملوك: المرزی عند الملأ الأعلى في هذا الزمان أن تسلوا السيوف ثم لا تغمدوها حتى يجعل الله فرقانًا بين المسلمين والمشركين وحتى يلحق مردة الكفار والفساق بضعفائهم لا يستطيعون لأنفسهم شيئًا وهو قوله تعالى: "وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله".

التفہیمات الہیہ، 1936، جلد 1، صفحہ 215 تا 16۔ یہ نام نہاد ملوک اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ صرف پالکی میں بیٹھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے تھے۔ دہلی کے وزیر امداد الملک غازی الدین نے 1754 میں شاہ ولی اللہ کے ہم عصر جہاندار شاہ کے لڑکے کو تخت پر بٹھایا اور اس کا لقب عالمگیر ثانی رکھا۔ 1757 میں افغان سردار احمد شاہ ابدالی دہلی آیا اور اس کو شہنشاہِ ہند کا خطاب عطا کیا۔

مگر جلد ہی بعد، 1759 میں، اسی وزیر نے عالمگیر ثانی کو قتل کر دیا جس نے چند سال پہلے اس کو تخت پر بٹھایا تھا۔ ایسی سلطنت کے سامنے جہاد بالسیف کی تقریر کرنا ایسا ہی ہے جیسے مردہ لاشوں کے سامنے رجس پڑھنا۔ شاہ ولی اللہ کا یہ کارنامہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے گرتی ہوئی مغل سلطنت کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نواب نجیب الدولہ کے ذریعے کابل کے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان بلوایا۔

اس نے 1761 میں پانی پت کے مقام پر مراٹھوں کو شکست دے کر مغل سلطنت کے دشمن کو کچل دیا۔ مگر آخری نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ واقعہ شاہ ولی اللہ کے کارنامے کے خانے میں درج کرنے کے بجائے اس قابل نظر آئے گا کہ اس کو ان کی بے بصیرتی کے خانے میں لکھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں شاہ ولی اللہ کا زیادہ بڑا کارنامہ یہ ہوتا کہ وہ ابن خلدون 1332 تا 1406 کے مقدمے کے وہ صفحات پڑھتے جس میں ابن خلدون نے بجا طور پر لکھا ہے کہ کسی سلطنت کی بھی اسی طرح عمر ہوتی ہے جس طرح افراد کی عمر ہوتی ہے۔ إن الدولة لها أعمار طبيعية كما للأشخاص.

مقدمہ، صفحہ 170۔ اور یہ کہ جب کوئی سلطنت بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کا اٹھنا ممکن نہیں ہوتا۔ إن الحرام إذا نزل بالدولة لا يرتفع. مقدمہ، صفحہ 293۔

شاہ ولی اللہ اگر اس راز کو جانتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ ان کے کرنے کا اصل کام یہ نہیں ہے کہ وہ اس دیمک زدہ ستون کو بے فائدہ طور پر سنبھالنے کی کوشش کریں جس کے لیے گرنا خود قدرت کے قانون کے تحت مقدر ہو چکا ہے، بلکہ ان کا کام یہ ہے کہ وہ نئے حالات کو سمجھیں اور پھر سے امت کی نئی تاریخ بنانے کی کوشش کریں جس کے عین سرے پر وہ کھڑے ہوئے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.