Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

تعصب کی حد

Urdu · 2 min read

جار اللہ زمخشری (467-538 ھ) ایک معتزلی عالم تھے۔ معتزلہ سے عام مسلمانوں کا اختلاف اتنا بڑھا کہ وہ ان کی کتابوں کے دشمن ہوگئے۔ فرقہ معتزلہ میں کثرت سے علما تھےاور انہوں نے بہت بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں مگر ان کی تمام کتابیں جلادی گئیں ۔ اس میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ زمخشری کا ہے۔ زمخشری اگرچہ معروف معتزلی تھا۔ تاہم اس کی دو کتابیں المفصل (نحو) اور الکشاف (تفسیر قرآن ) آج بھی موجود ہیں اور علمائے اہل سنت کے درمیان بدستور مقبول ہیں، اور علمی مرجع کے طور پر کام دیتی ہیں ۔

اسی طرح ابن منظور (630-711ھ) ایک شیعہ تھا۔ شیعی گروہ اور اہل سنت کے درمیان ایک ہزار سال سے زبردست اختلافات موجود ہیں ۔ آج تک ان میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ شیعہ علما کی کتابیں صرف شیعہ فرقہ کے درمیان رائج ہیں ۔ سنی علما ان کو دیکھتے ہیں تو تردید کے لیے، نہ کہ استفادہ کے لیے۔ مگر یہاں بھی بعض استثنا ہیں ۔ مثلاً ابن منظور کی کتاب لسان العرب (لغت) کو اہل سنت کے علماکے درمیان خصوصی مقام حاصل ہےاور اہل علم عام طور پر اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

زمخشری کا اعتزال اور ابن منظور کی شیعیت ان کی کتابوں کو علمائے اہل سنت کے درمیان مقبول بنانے میں حارج نہ ہوسکیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایسی کتابیں لکھی جن کے مثل اس موضوع پر کوئی دوسری کتاب موجود نہ تھی۔ ان کی مقبولیت ان کے امتیازی عمل کی قیمت ہے۔ بعض آدمی کا کام اتنا بلند ہوجاتا ہے کہ اعتقادی اختلافات ان کو قبول کرنے میں حارج نہیں ہوتے۔

زندگی کے معاملات کو سمجھنے کے لیے جن لوگوں کو صرف ’’تعصب‘‘ کا لفظ معلوم ہے انہیں ایک اور حقیقت کی خبر نہیں ۔ وہ یہ کہ تعصب کے عمل کی بھی ایک حد ہے۔ ایک حد کے بعد تعصب غیر مؤثرہوجاتا ہے، یہ حد ہے ’’امتیاز‘‘۔

اگر آپ اپنی کارکردگی کو عام معیار سے بڑھا کر امتیاز کے درجہ میں پہنچا دیں تو تعصب کی دیوار یں اپنے آپ گر جاتی ہیں ۔ اس کے بعد آپ کا دشمن بھی آپ کا اتنا ہی قدرداں بن جاتا ہے جتنا آپ کا دوست۔ (الرسالہ، ستمبر 1983)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.