Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Ulama Aur Deeni Madaris
Ulama Aur Deeni Madaris

موت کے عقیدے نے زندگی دے دی

Urdu · 3 min read

ایک نوجوان نے عربی مدرسے سے فراغت حاصل کی ۔ اس کے بعد ان کا ارادہ مزید تعلیم حاصل کرنے کا تھا۔ اسی دوران گھر سے ایک خبر آئی جس نے ان کے حوصلے ختم کر دیے۔ خبر یہ تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے گھر پرمعمولی کھیتی باڑی تھی۔ اسی میں محنت کر کے ان کے والد صاحب گھر کا کام چلاتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد گھر پر صرف ان کی بیوی تھیں اور چند چھوٹے بچے ۔ اب مذکورہ نوجوان ہی گھر کے بڑے کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کو اپنی ذمہ داری کا شدید احساس ہوا ۔ والد صاحب کی وفات کا مطلب ان کے لیے صرف ایک تھا۔ یہ کہ وہ مزید تعلیم کا ارادہ ترک کر کے اپنے گھر چلے جائیں اور اپنے والد صاحب کی طرح کھیتی باڑی کے کام میں لگ کر گھر کا انتظام سنبھا لیں ۔

مدرسے میں ایک بزرگ سے ان کا قریبی تعلق تھا ۔ اس کے بعد وہ ان سے ملے اور کہا ’’حضرت اب میں یہاں سے جا رہا ہوں اور آپ سے آخری ملاقات کے لیے آیا ہوں‘‘ ۔ بزرگ نے کہا  آخر کیا بات ہے۔ کہاں جا رہے ہو ۔ انہوں نے بتایا کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور میں ہی اپنے گھر میں سب سے بڑا ہوں ۔ اس لیے اب مجھ ہی کو گھر کا انتظام سنبھالنا ہے۔ شاید قدرت کو یہی منظور ہے کہ میرے ہاتھوں میں ’’قلم‘‘ کے بجائے ’’ہل‘‘ ہو۔ بظاہر اب میرے لیے مزید تعلیم کا کوئی سوال نہیں۔ بزرگ یہ سن کر خاموش ہو گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے  ’’ کیا موت آپ کے لیے نہیں ہے ۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ گھر پہنچ کر آپ کا انتقال نہیں ہو جائے گا۔ پھر اگر آپ کا بھی انتقال ہو گیا تو۔‘‘ اس کے بعد بزرگ نے کہا کہ کسی گھر کا سنبھالنے والا کوئی بڑا نہیں ہوتا۔ ہر گھر کا سرپرست اور کفیل اللہ تعالیٰ ہے۔ کسی کے جینے مرنے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ اپنے تعلیمی منصوبے کو جاری رکھیے اور گھر کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجیے۔ ’’ آپ تھوڑی دیر کے لیے سمجھ لیجیے کہ میرا بھی انتقال ہو گیا ہے ‘‘۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ بات نوجوان کے دل کو لگ گئی۔ انہوں نے گھر کا خیال چھوڑ دیا اور اس کے معاملے کو اللہ کے حوالے کر کے اپنی تعلیمی جد و جہد شروع کر دی ۔ انہوں نے مدینہ کے جامعہ اسلامیہ میں درخواست بھیجی اور اس کے لیے ضروری کوششیں کرنے لگے۔ کوشش کامیاب رہی اور ان کا داخلہ جامعہ اسلامیہ (مدینہ) میں ہوگیا ۔ انہوں نے مدینہ کا سفر کر کے جامعہ اسلامیہ میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ وہاں سے فراغت کے بعد وہ سعودی عرب کے دار الافتاء کے تحت افریقہ کے ایک ملک میں مبلّغ اور استاد کی حیثیت سے بھیج دیے گئے۔ 11 اپریل 1980کو ایک ملاقات میں انہوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ افریقہ میں رہتے ہوئے اُن کو دس سال ہو چکے ہیں۔ اور ان کی موجودہ زندگی سے وہ اور ان کے گھر والے دونوں مطمئن ہیں۔ وہ اپنے کو ایک کامیاب انسان سمجھتے ہیں اور یہ کامیابی ان کو اس مختصر سے جملہ سے ہوئی کہ— سمجھ لیجیے کہ آپ کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

موت کا عقیدہ بظاہر منفی عقیدہ ہے۔ مگر وہ اپنے اندر زبر دست مثبت اثرات رکھتا ہے۔ جس کو موت کا یقین ہو ، زندگی کے بارے میں اس کا یقین بڑھ جاتا ہے۔ جو اپنے کو مرتا ہوا دیکھ لے وہ اپنی زندگی میں زیادہ باعمل ہو جاتا ہے ۔ (الرسالہ، جون 1980)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content