Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

تزکیہ: ذریعہِ قربت

Urdu · 2 min

انسان مخلوق ہے، اور خدا اس کا خالق ہے؛ اس لحاظ سے انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو۔ مگر مختلف چیزیں انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہیں، مثلاً فخر، منفی سوچ، وغیرہ۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اس قسم کے منفی جذبات سے مکمل طور پر پاک کیا جائے۔

آدمی جیسے ہی اپنے آپ کو اس قسم کے غیر ربانی جذبات سے پاک کرتا ہے، اچانک وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو گیا ہے۔ وہ اپنے آس پاس خدا کی موجودگی، یعنی presence of God، کا تجربہ کرنے لگتا ہے۔ خدا سے گہری قربت صرف اس وقت ہو سکتی ہے جب انسان خدا کو اس کے اعلیٰ ترین اوصاف کے ساتھ دریافت کرے۔ مثلاً ہر انسان دنیا میں رہنے کے لیے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔

یہ چیزیں اس نے خود نہیں پیدا کی ہیں؛ اس کا ایک دینے والا، اور وہ دینے والا بلاشبہ خدا ہے۔ خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس کا واحد منعم اور معطی، یعنی giver ہے۔ یہ بلاشبہ خدا کے ایک طرفہ انعامات ہیں جن کی بنا پر وہ اس دنیا میں زندہ اور قائم ہے۔ ایک لمحے کے لیے اگر اس ایک طرفہ عطیے کا سلسلہ ٹوٹ جائے تو انسان اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔

جب ایک انسان اس طرح خدا کو اپنے منعم کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کے فطری نتیجے کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی روح کے اندر خدا سے محبت کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔ وہ اس حقیقت کی تصویر بن جاتا ہے جس کو قرآن میں "والذین آمنوا أشدّ حبّاً لله" سورہ نمبر 2 آیت 165 کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں سجدہ قربت سورہ نمبر 96 آیت 19 کا ذکر ہے۔ یہ سجدہ قربت کیا ہے؟

یہ سجدہ قربت دراصل اس انسان کا سجدہ ہے جو اپنے رب کے لیے محبت اور خشیت سے سرشار ہو، اور اس سرشاری کے تحت وہ اپنے رب کے سامنے سجدے میں گر پڑے۔ اس قسم کا سجدہ ایک مومن کے لیے گویا کہ تزکیہ کی معراج ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.