Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

تزکیہ کا ایٹم تلاش کرنا

Urdu · 2 min

تزکیہ کا وسیلہ اپنی سوچ کو متحرک کرنا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی زندگی کے اُن واقعات کو یاد کریں جب کہ آپ کسی بڑی مصیبت میں پھنسنے والے تھے، مگر اللہ نے اپنی خصوصی مدد سے آپ کو اُس سے بچا لیا۔ ایسے حادثات اور واقعات ہر آدمی کی زندگی میں ہوتے ہیں، مگر بعض اوقات آدمی اُن حادثات اور واقعات کو بھول جاتا ہے۔

تزکیہ کے طالب کو چاہیے کہ وہ بار بار سوچ کر ایسے واقعات کو اپنے ذہن میں تازہ کرے، جب کہ وہ تباہی کے عین کنارے پر پہنچ چکا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے خصوصی مداخلت کر کے اُس کو بچا لیا۔ ان واقعات کو وہ شدت کے ساتھ یاد کرے اور پھر کہے کہ خدایا تو نے مجھے دنیا کی زندگی میں بار بار بھیانک انجام سے بچا لیا، اسی طرح تو مجھے آخرت میں جہنم کے ہولناک عذاب سے بچا لے۔ اسی طرح اس معاملے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ اپنی کوتاہیوں کو یاد کر کے اپنے اندر احساسِ خطا کو بیدار کریں۔ کسی معاملے میں اگر آپ محسوس کریں کہ آپ 99% درست تھے، صرف 1% آپ غلط تھے، تو ایسے موقع پر آپ یہ کریں کہ 99% کو بھلا دیں اور 1% کو اتنا زیادہ بڑھائیں کہ آپ کو محسوس ہو کہ گویا ساری غلطی آپ ہی کی تھی۔

اس طرح آپ کے اندر احساسِ خطا جاگے گا، آپ خوفِ خدا سے کانپ اٹھیں گے، آپ شدتِ انابت کے ساتھ اللہ سے توبہ کی درخواست کرنے لگیں گے۔ تزکیہ کوئی پراسرار چیز نہیں، تزکیہ کا ایک معلوم پروسیس ہے، اور وہ ہے بار بار تزکیہ سے تعلق رکھنے والے پہلوؤں پر سوچنا۔ تزکیہ ہمیشہ شعوری بیداری کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی پراسرار کرشمے کا نتیجہ۔ کوئی شخص جتنا زیادہ اس معاملے میں سوچے گا، اتنا ہی زیادہ اُس کا تزکیہ ہوگا۔

تزکیہ پورے معنوں میں ایک شعوری عمل ہے۔ اس شعوری عمل کے بغیر تزکیہ کو پانے کی امید رکھنا صرف ایک خوش خیالی، یعنی wishful thinking ہے، جو کبھی واقعہ بننے والی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.