Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tazkiya-e-Nafs
Tazkiya-e-Nafs

تزکیہ اور موت کی یاد

Urdu · 2 min

تزکیے کے عمل کے لیے موت کی یاد بہت طاقتور ذریعہ ہے۔ موت کی یاد تزکیے کو فی الفور کرنے کے ایک کام کی حیثیت دے دیتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کے اندر اس پہلو سے ایک سینس آف ارجنسی پیدا کرتی ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ تزکیے کے عمل میں تاخیر کا تم تحمل نہیں کر سکتے۔

تزکیے کا کام آج کر ڈالو، کیونکہ کل کے بارے میں نہیں معلوم کہ وہ تمہارے لیے موت کا دن ہوگا یا زندگی کا دن۔ موت کا تصور آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ تم پر کسی بھی لمحہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ تم مر جاؤ گے۔ اس کے بعد تم کو اس سنگین صورتحال کا سامنا پیش آنے والا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورہ نمبر 83 آیت 6۔ یعنی مالکِ کائنات کے سامنے انسان کا کھڑا کیا جانا۔

یہ وہ دن ہوگا جب کہ فرشتے انسان کو لے جا کر خدا کے سامنے پیش کر دیں گے۔ خدا جو ہر کھلے اور چھپے کو جانتا ہے، وہ انسان سے اس کے قول و عمل کا حساب لے گا۔ ایک حدیث کے مطابق انسان کے قدم اس وقت تک اللہ کے سامنے سے نہیں ہٹیں گے جب تک وہ اللہ کے سوالات کا جواب نہ دے دے۔ لَا تَزُولُ قَدَمَ عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعِينِ موت کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے اس نازک ترین لمحے کو یاد کرے۔

وہ اس آنے والے وقت کے بارے میں سوچتا رہے جو بہرحال اس پر آئے گا۔ اس دن اس کے ابدی مستقبل، یعنی ایٹرنل فیوچر، کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ سوچ بلاشبہ ایک ایسی سوچ ہے جو آدمی کے اندر زلزلہ پیدا کر دے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص اس طرح موت کے بارے میں سوچے، وہ اپنے تزکیے کے بارے میں بے حد فکرمند ہو جائے گا۔

وہ آخری حد تک یہ کوشش کرے گا کہ وہ ہر پہلو سے اپنا تزکیہ کر ڈالے، اس سے پہلے کہ اس پر موت آئے اور اس کے لیے اپنی اصلاح کا وقت باقی نہ رہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.