Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

80. Abasa

Urdu · 13 min read

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.