Maulana Wahiduddin Khan
25 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

81. At-Takwir

Urdu · 25 min read

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔ زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.