Maulana Wahiduddin Khan
17 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

79. An-Naazi'aat

Urdu · 17 min read

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔

کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔

کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔

کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔

کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔

کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.