Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

78. An-Naba

Urdu · 12 min read

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.