Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Tazkirul Quran (Urdu)
Tazkirul Quran (Urdu)

77. Al-Mursalaat

Urdu · 18 min read

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

آخرت کی ہولناکیاں جب سامنے آئیں گی تو انسان ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ اس وقت ان لوگوں کا بولنا بند ہوجائے گا جو دنیا میں اس طرح بولتے تھے جیسے کہ ان کے الفاظ کا ذخیرہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

موجودہ دنیا میں خدا کی نعمتیں وقتی طور پر امتحان کی غرض سے رکھی گئی ہیں۔ آخرت میں خدا کی نعتیں ابدی طور پر زیادہ کامل صورت میں ظاہر ہوں گی۔ آج ان نعمتوں میں ہر ایک حصہ پا رہا ہے۔ مگر آخرت کی اعلی نعمتیں صرف ان لوگوں کا حصہ ہوں گی جنہوں نے آزادی کے حالات میں اطاعت کی۔ جو اس وقت جھکے جب کہ وہ جھکنے کے لیے مجبور نہ تھے۔ جو لوگ قول پر جھکیں ان کے لیے جنت ہے اور جو لوگ ویل (قيامت كي تباهي) کو دیکھ کر جھکیں ان کے لیے جہنم۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

سمندر سے بھاپ اٹھ کر فضا میں جاتی ہے اور بادل بن جاتی ہے۔ ان بادلوں کو ہوائیں اڑا کر ایک طرف سے دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ وہ ایک علاقہ میں بارش برسا کر سرسبزی کا سامان کرتی ہیں اور دوسرے علاقہ کو خشک چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا کا نظام ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنے کے اصول پر قائم ہے۔ موجودہ دنیا میں اس اصول کا اظہار جزئی صورت میں ہورہا ہے اور آخرت میں اس اصول کا اظہار اپنی کامل صورت میں ہوگا۔ ہواؤں کی یہ نوعیت آدمی کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کا کسی کے لیے رحمت اور کسی کے لیے زحمت بننا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ دنیا میں جب دو مختلف قسم کے انسان ہیں تو ان کے لیے خدا کا فیصلہ دو الگ الگ صورتوں میں ظاہر ہوگا۔ پھر ہواؤں کی یہ نوعیت خدا کی طرف سے اتمام حجت بھی ہے۔ اس مظاہرہ کے بعد کسی کے لیے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس پر غور کرنے والا اس کے آئینہ میں آخرت کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان سے بڑا مجرم اور کوئی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content