ہاتھی کی دم میں پتنگ۔ اکثر والدین مجھ سے پوچھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بچوں کی دینی تربیت کے لیے کیا کیا جائے۔ میرا جواب ہمیشہ ایک رہتا ہے: بچوں کی تربیت سے پہلے خود اپنی تربیت کیجیے۔ موجودہ زمانے میں بچوں کے بگاڑ کا اصل سبب خارجی ماحول نہیں ہے، بلکہ گھر کا داخلی ماحول ہے۔
گھر کا داخلی ماحول کون بناتا ہے؟ یہ والدین ہیں جو گھر کا داخلی ماحول بناتے ہیں۔ جب تک گھر کے داخلی ماحول کو حقیقی معنوں میں دینی، یعنی آخرت پسندانہ ماحول نہ بنایا جائے، بچوں کے اندر کوئی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ موجودہ زمانے کا اصل فتنہ مال ہے۔
آج کل ہر آدمی زیادہ سے زیادہ مال کما رہا ہے۔ اس مال کا مصرف والدین کے نزدیک صرف ایک ہے، اور وہ ہے گھر کے اندر ہر قسم کی راحت کے سامان اکٹھا کرنا اور بچوں کی تمام مادی خواہشوں کو پورا کرنا۔ موجودہ زمانے میں یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ اس معاملے میں شاید کسی گھر کا کوئی استثنا نہیں، خواہ وہ بیریش والوں کا گھر ہو یا بارش والوں کا گھر۔ والدین کے اس مزاج نے ہر گھر کو مادہ پرستی کا کارخانہ بنا دیا ہے۔
تمام والدین اپنے بچوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر مادہ پرستانہ ذہن بنانے کے امام بنے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے آخرت کی جنت سے بھی محروم نہ رہیں۔ اسی مزاج کے بارے میں ایک اردو شاعر نے کہا تھا: "رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی"۔ مگر یہ صرف ایک خوش خیالی ہے جو کبھی واقعہ بننے والی نہیں۔
تمثیل کی زبان میں یہ ہاتھی کی دم میں پتنگ باندھنا ہے۔ موجودہ زمانے کے والدین ایک طرف اپنے بچوں کو مادی ہاتھی بناتے ہیں، دوسری طرف وہ چاہتے ہیں کہ اس ہاتھی کی دم میں دین کی پتنگ باندھ دی جائے۔ مگر ایسی پتنگ کا حال صرف یہ ہونے والا ہے کہ ہاتھی ایک بار اپنی دم کو جھٹکا دے اور یہ پتنگ اڑ کر بہت دور چلی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو دیندار، یعنی آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو وہ اس کی قیمت ادا کریں۔
ورنہ وہ فرضی طور پر اس قسم کی منافقانہ بات کرنا بھی چھوڑ دیں۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 55۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.