Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Har ghar bigad ka kaarkhana.

Urdu · 3 min

ہر گھر بگاڑ کا کارخانہ۔ آج کل عام طور پر یہ حال ہے کہ ہر گھر میں ایک طرف اپنے بچوں اور اپنے خاندان والوں کی تعریف کی جاتی ہے، ان کا ذکر ہمیشہ مثبت انداز میں کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جب بھی دوسروں کا چرچہ کیا جاتا ہے تو وہ تنقیص کے انداز میں ہوتا ہے۔ اپنوں کے بارے میں مثبت باتوں کا چرچہ اور دوسروں کے بارے میں منفی باتوں کا چرچہ، یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید ہی کوئی گھر اس سے خالی ہو۔

گھر کے اندر سماج کے شہری بنتے ہیں، لیکن مذکورہ کلچر نے گھر کو اس قابل نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنے سماج کے لیے اچھے شہری سپلائی کرے۔ ہر گھر میں ایسے عورت اور ایسے مرد بن کر تیار ہو رہے ہیں جو اپنوں کے بارے میں مثبت رائے اور دوسروں کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ جن کو اپنوں سے محبت ہے اور دوسروں سے نفرت۔ جو اپنوں کے بارے میں روادار، یعنی ٹالرینٹ ہیں، اور دوسروں کے بارے میں وہ غیر روادار، یعنی انٹالرنٹ بنے ہوئے ہیں۔

جن کے اندر اپنوں کو دینے کا ذہن ہے اور دوسروں سے صرف لینے کا ذہن۔ جو اپنوں کو برتر سمجھتے ہیں اور دوسروں کو کمتر۔ جو اپنوں کی ترقی پر خوش ہوتے ہیں اور دوسروں کی ترقی دیکھ کر انہیں کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ جو اپنوں کی تکلیف سے فکرمند ہوتے ہیں اور دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کر انہیں کوئی فکرمندی لاحق نہیں ہوتی، وغیرہ۔

اس صورتحال کا یہ نتیجہ ہے کہ اب سماجی اقدار، یعنی سوشل ویلیوز، کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ اب ایک ہی چیز ہے جو ہر ایک کا واحد کنسرن، یعنی سول کنسرن، بنی ہوئی ہے، اور وہ ہے ذاتی مفاد، یعنی سیلف انٹرسٹ۔ اس صورتحال نے ہر ایک کو خودغرض اور استحصال پسند بنا دیا ہے۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ۔

یہ صورتحال بے حد سنگین ہے۔ اس کی اصلاح جلسوں اور تقریروں کے ذریعے نہیں ہو سکتی۔ اس کی اصلاح کا طریقہ صرف یہ ہے کہ گھر والے اپنے گھر کے ماحول کو درست کریں۔ گھر کے ماحول کو درست کیے بغیر اس سنگین صورتحال کی اصلاح ممکن نہیں۔

کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 56۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.