Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Parcha-e-imtehaan.

Urdu · 3 min

پرچہ امتحان: یو پی کے ایک مسلمان دہلی میں آ کر آباد ہوئے، انہوں نے پراپرٹی کا بزنس کیا۔ انہوں نے اس بزنس میں کافی دولت کمائی، مگر ان کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ ایک بار ان کی ماں دہلی آئیں، انہوں نے دیکھا کہ ان کا بیٹا دہلی میں ایک بڑے گھر میں رہتا ہے، دنیا کی ہر چیز اس کے پاس ہے، مگر شادی کو کافی عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے یہاں اولاد نہیں ہوئی۔ ان کی ماں اس بات پر کافی پریشان ہوئی۔

وہ اکثر کہتی تھیں، "ہائے، میرے بیٹے کی دولت کون لے گا؟ " اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن میں اولاد کو فتنہ، التغابن، سورہ نمبر 64 آیت 15 کیوں کہا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے بیٹے کو اپنی ذات کی توسیع، یعنی ایکسٹینشن، سمجھتے ہیں۔ ان کو یقین ہوتا ہے کہ ان کی کمائی ان کے بعد ضائع نہیں ہوگی، بلکہ اپنے بیٹے کی صورت میں بالواسطہ طور پر وہ ان کو حاصل رہے گی۔

اولاد کے بارے میں اسی تصور کی بنا پر لوگوں کے لیے اولاد ایک فتنہ بن جاتی ہے۔ اس تصور کے تحت جو ذہن بنتا ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی موت کی سنگینی سے غافل ہو جاتا ہے۔ موت کے بعد کے احوال پر وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں سوچتا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ موت اور موت کے بعد کی حقیقتوں کے معاملے سے بے خبر ہو جاتا ہے۔

اولاد کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے نسلِ انسانی کا بقا و تسلسل جاری رہتا ہے۔ جہاں تک دولت کی بات ہے، وہ باپ کے لیے بھی امتحان کا ایک پرچہ ہے اور بیٹے کے لیے بھی امتحان کا ایک پرچہ۔ دولت کو اگر اس ذہن کے تحت دیکھا جائے تو دولت کبھی مسئلہ نہ بنے۔ اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کسی والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے بہترین تحفہ یہ ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے ذریعے اس کو اچھا انسان بنائیں۔

سنن الترمذی، حدیث نمبر 1952، کتاب تربیت اولاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 54۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.