Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Ahl-o-ayaal ka fitna.

Urdu · 3 min

اہل و عیال کا فتنہ حدیث کی کتابوں میں اہل و عیال کے بارے میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ ان میں سے دو روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "الويل كل الويل لمن ترك عياله بخير وقدم على ربه بشر." مسند الشہاب القضائی، حدیث نمبر 314۔ یعنی کامل تباہی وہ بربادی ہے اس شخص کے لیے جس نے اپنے عیال کو اچھی حالت میں چھوڑا اور خود برے حال میں اپنے رب کے پاس پہنچا۔

دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: "يؤتى برجل يوم القيامة فيقال أكل عياله حسناته." تخریج الاحادیث فی تفسیر الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357۔ یعنی قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے اہل و عیال اس کی نیکیاں کھا گئے۔ قدیم زمانے میں صرف کچھ افراد اس قسم کے ہوتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں اس پہلو سے بگاڑ کا یہ حال ہے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تمام لوگ اس تباہ کن کمزوری کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس کمزوری کا سبب حب عیال ہے۔

بظاہر لوگ خدا کا اور اسلام کا نام لیتے ہیں، لیکن ان کی محبتیں صرف اپنے اہل و عیال سے ہوتی ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑا کنسرن ان کے اہل و عیال ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال و اسباب کو اپنے اہل و عیال کے لیے وقف کیے رہتے ہیں۔ موت ایسے لوگوں کے لیے ایک جبری انقطاع، یعنی کمپلسف ڈیٹیچمنٹ کے طور پر آتی ہے۔

ایسے لوگ جب موت کے بعد خدا کے پاس پہنچتے ہیں تو وہاں کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی محرومی ہے۔ حدیث کے مطابق یہ دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کرنا ہے۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3966۔

مزید یہ کہ یہ اہل و عیال جن کو آدمی اپنا سب کچھ دے دیتا ہے، وہ موت کے بعد اس سے اس طرح جدا ہو جاتے ہیں کہ دوبارہ وہ اس کو کبھی نہیں ملتے۔ کتاب تربیت اولاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 53۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.