فرضی محبت: ایک مسلم لڑکی اپنے ماں باپ کی اکیلی اولاد تھی، اس کے والدین نے دھوم کے ساتھ اس کی شادی کی۔ اس کے بعد وہ رخصت ہو کر اپنے سسرال گئی۔ اس کے یہاں ایک بچہ بھی پیدا ہو گیا، مگر 2 سال کے بعد وہ اپنے شوہر سے لڑ جھگڑ کر اپنے ماں باپ کے پاس واپس آ گئی۔ اس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ میرا شوہر نہایت سخت مزاج ہے، اس کے ساتھ میرا نباہ نہیں ہو سکتا۔
لڑکی کے والدین نے اس سے زیادہ پوچھ گچھ، یعنی سکروٹنی، نہیں کی۔ جو کچھ لڑکی نے کہا، اس کو انہوں نے درست مان لیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی، تم فکر نہ کرو، ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے، تم یہاں آرام کے ساتھ رہو۔ تم کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔
مجھ سے ملاقات ہوئی تو میں نے لڑکی سے پوچھ گچھ کی، تاکہ اصل حقیقت معلوم ہو سکے۔ لڑکی نے بتایا کہ میرا شوہر ہر معاملے میں سختی کرتا ہے۔ میں نے مثال پوچھی تو اس نے بتایا کہ میرا شوہر مجھ کو شاپنگ کے لیے نہیں لے جاتا، وہ آؤٹنگ کا پروگرام نہیں بناتا۔ میں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے، شاپنگ کا مطلب پیسے کا ضیاع، یعنی ویسٹ آف منی ہے، اور آؤٹنگ کا مطلب وقت کا ضیاع، یعنی ویسٹ آف ٹائم ہے۔
آپ کا شوہر بہت اچھا کرتا ہے کہ وہ آپ کو ایسی بے فائدہ چیزوں سے بچاتا ہے۔ ماں باپ نے لڑکی کے ساتھ جو کیا وہ محبت کا واقعہ تھا، اور شوہر نے جو کچھ کیا وہ خیر خواہی کا واقعہ تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ محبت کے مقابلے میں خیر خواہی زیادہ بڑی چیز ہے، مگر اکثر لوگ اس فرق کو نہیں جانتے۔ اس لیے وہ محبت کرنے والے کو اپنا ہمدرد سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اصل ہمدرد وہ ہے جو آپ کے ساتھ سچی خیر خواہی کرے۔
محبت صرف ایک جذباتی چیز ہے، جبکہ خیر خواہی ایک خالص عقلی رویہ ہے۔ وہ شخص بہت خوش قسمت ہے جس کو اپنی زندگی میں ایک سچا خیر خواہ مل جائے۔ کتاب: تربیت اولاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 45۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.