خیر خواہی یا بدخواہی؟ ایک باپ نے اپنی بیٹی کی شادی دور کے مقام پر کی، یہ بیٹی اپنے میکے میں اس طرح رکھی گئی تھی کہ اس نے کبھی کوئی کام نہیں کیا۔ اس کے والدین کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ بیٹی خوش رہے، اس کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے، مگر باپ جانتا تھا کہ سسرال میں ایسا ہونے والا نہیں ہے۔ اس نے بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کہا کہ اب تم جہاں جا رہی ہو، وہ تمہارے لیے ایک مختلف دنیا ہوگی۔
میکے میں تم کو جو آرام ملا، سسرال میں تم اس کی امید نہ کرنا۔ میکے میں تم کو جو آرام ملا، سسرال میں تم اس کی امید نہ رکھنا۔ باپ نے اپنی سمجھ کے مطابق یہ مشورہ خیر خواہی کے جذبے کے تحت دیا، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ بدخواہی کا مشورہ تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی بیٹی اپنے سسرال میں ہمیشہ منفی ذہن کے تحت رہے، وہ ہمیشہ احساسِ محرومی کا شکار رہے، وہ ہمیشہ یہ سمجھتی رہے کہ میرے میکے کے لوگ بہت اچھے تھے اور میرے سسرال کے لوگ بہت برے ہیں۔
میکے والوں کے لیے اس کے دل میں جھوٹی محبت اور سسرال والوں کے لیے اس کے دل میں جھوٹی شکایت بھر جائے۔ ساری زندگی وہ اس احساس میں جیے کہ میری شادی غلط ہو گئی۔ وہ ہمیشہ میکے والوں کو اچھا سمجھے اور سسرال والوں کو ہمیشہ برا سمجھتی رہے۔ موجودہ زمانے میں تقریباً ہر ماں باپ اپنی بیٹی کے حق میں اسی قسم کی فرضی خیر خواہی کرتے ہیں، جو عملاً بیٹی کے لیے صرف ایک مستقل بدخواہی بن جاتی ہے۔
بیٹی اپنے میکے کی کنڈیشننگ کی بنا پر خود سے کبھی اس معاملے کو سمجھ نہیں پاتی، اور ماں باپ کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی کنڈیشننگ کو مزید پختہ کر دیتے ہیں۔ وہ اس کی کنڈیشننگ کا خاتمہ نہیں کرتے۔ صحیح یہ ہے کہ باپ یا تو اپنی بیٹی کے ساتھ لاڈ پیار یعنی پیمپرنگ کا سلوک نہ کرے، یا کم از کم یہ کرے کہ وہ اپنی بیٹی سے بوقتِ رخصت کہہ دے کہ ہم نے جو کچھ کیا وہ غیر فطری طریقہ تھا۔ فطری طریقہ وہی ہے جس سے تم کو سسرال میں سابقہ پیش آئے گا۔
کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 46۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.