Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Maakus tarbiyat.

Urdu · 3 min

معکوس تربیت۔ ایک مسلم تاجر کا واقعہ ہے: ان کی بیٹی نے ان سے اپنی کسی ضرورت کے لیے پیسہ مانگا۔ مذکورہ مسلم تاجر نے اپنی بیٹی سے مزید کچھ نہیں پوچھا۔ انہوں نے فوراً اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔

اس وقت ان کی جیب میں جتنے نوٹ تھے، وہ سب نکال کر انہوں نے اپنی بیٹی کے ہاتھ میں رکھ دیے اور کہا کہ یہ لو، تم ہی لوگوں کے لیے تو کماتے ہیں۔ یہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں، یہی سارے والدین کا حال ہے۔ والدین خود تو محنت کرتے ہیں، وہ مشقت کی کمائی کرتے ہیں، لیکن اپنی اولاد کے بارے میں ان کا ذہن یہ رہتا ہے کہ ان کی اولاد کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ وہ خود تکلیف اٹھاتے ہیں اور اپنی اولاد کو ہر قسم کی راحت اور سہولت فراہم کرتے ہیں۔

وہ ان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، خواہ انہیں اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے۔ والدین کا یہ مزاج ان کی اولاد کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ والدین کا یہ مزاج اولاد کی معکوس تربیت کے ہم معنی ہے۔ ان کی اولاد کو آخر کار جس دنیا میں داخل ہونا ہے، وہ حقائق کی دنیا ہے۔

وہاں کا اصول یہ ہے کہ جتنا کرو اتنا پاؤ۔ لیکن والدین گھر کے اندر اپنی اولاد کے اندر جو مزاج پیدا کرتے ہیں، وہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ گھر کا ماحول کیے بغیر پانے کا ماحول ہوتا ہے، اور گھر کے باہر کا ماحول کر کے پانے کا ماحول۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کا ہر نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں دونوں، منفی ذہن کا شکار ہو رہے ہیں۔

انہیں دنیا کے ہر شخص سے شکایت ہوتی ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کا مزاج یہ بنتا ہے کہ میرے ماں اور باپ بہت اچھے تھے، بقیہ تمام لوگ نہایت برے ہیں۔ اس صورتحال نے آج کی دنیا میں دو چیزوں کا خاتمہ کر دیا ہے: محنت کے ساتھ اپنا کام کرنا، اور لوگوں کا خیر خواہ یعنی ول وشر بن کر ان کے درمیان رہنا۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.