Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Bachchon ka bigaad.

Urdu · 3 min

بچوں کا بگاڑ۔ ایک صاحب نے کہا کہ آج کل والدین عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے بچے بگڑ گئے ہیں۔ اس کا ذمہ دار سب سے زیادہ ٹی وی کو بتاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ٹی وی نے ان کے بچوں کو بگاڑ دیا ہے۔

انہوں نے پوچھا کہ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ اگر ٹی وی کا معاملہ ہے تو والدین کیوں اپنے گھر میں ٹی وی رکھتے ہیں؟ بچے خود خرید کر ٹی وی نہیں لاتے۔ یہ والدین ہیں جو بچوں کو خوش کرنے کے لیے ٹی وی لا کر اپنے گھر میں رکھتے ہیں۔

اس لیے اس معاملے میں اصل ذمہ دار خود والدین ہیں، نہ کہ بچے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے بگاڑ کا اصل سبب لاڈ پیار یعنی پیمپرنگ ہے۔ والدین کا نظریہ اپنے بچوں کے بارے میں یہ ہوتا ہے کہ ان کی ہر خواہش کو پورا کیا جائے۔ بچے جب تک چھوٹے ہیں، ان کی خواہش کھانے اور کپڑے جیسی چیزوں تک محدود رہتی ہے۔

اس لیے چھوٹی عمر میں والدین اپنے نظریے کی غلطی سمجھ نہیں پاتے۔ لیکن جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان کی دلچسپیاں بڑھ جاتی ہیں۔ اب وہ دوستی، آؤٹنگ کلب، اور لو افیئر جیسی چیزوں کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو والدین روک ٹوک کرتے ہیں، مگر بچے ان کی روک ٹوک کو قبول نہیں کرتے۔

یہ بلاشبہ خود والدین کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ چھوٹی عمر میں والدین نے اپنے بچوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ میری ہر خواہش پوری ہونی چاہیے۔ بالغ ہونے کے بعد اس مزاج نے مزید ترقی کی۔ اب وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ان چیزوں کی طرف جانے لگے جو والدین کو پسند نہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ "میری خواہش سب کچھ ہے" کا مزاج بچوں کے اندر کس نے پیدا کیا؟ یہ خود والدین نے اپنے لاڈ پیار سے پیدا کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ محبت کے نام پر دشمنی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.