والدین کی ذمہ داری۔ حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر پیدا ہونے والا فطرت یعنی صحیح پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں، یا اس کو نصرانی بنا دیتے ہیں، یا اس کو مجوسی بنا دیتے ہیں۔ " صحیح البخاری، حدیث نمبر 1358۔ اس کا مطلب صرف مذہبی معنوں میں یہودی اور عیسائی اور مجوسی بنانا نہیں ہے، یہ تو بنانے کی آخری صورت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر وہ بگاڑ شامل ہے جو والدین کے ذریعے ان کی اولاد میں پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ دوسری روایتوں میں عمومی الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً ایک روایت یہ ہے: "عن جابر بن عبدالله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل مولود يولد على الفطرة حتى يعرب عنه لسانه، فإذا أعرب عنه لسانه إما شاكراً وإما كفوراً." مسند احمد، حدیث نمبر 14805۔ یعنی جابر ابن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر پیدا ہونے والا فطرت یعنی صحیح پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ بولنے لگے۔
" پھر جب وہ بولنے لگتا ہے تو وہ شکر گزار یا ناشکرا بن جاتا ہے۔ بچے پیدا ہوتے ہی بولنے نہیں لگتے۔ بچے پیدا ہوتے ہی بولنے نہیں لگتے، وہ کچھ عرصے کے بعد بولتے ہیں۔ بولنا شروع کرنے سے پہلے ان کا ربط ان کی پیدائشی فطرت سے ہوتا ہے۔
بولنے کے بعد ان کا ربط ان کے قریبی ماحول سے ہو جاتا ہے۔ جو کچھ ملے اس پر اللہ کا شکر کرنا ہے، یا اس کو کسی اور کا عطیہ سمجھنا ہے، اس کا ابتدائی سبق انہیں اپنے ماں باپ سے ملتا ہے۔ کسی کو چھوٹا دیکھ کر اس کو حقیر سمجھنا، یا کسی کو بڑا دیکھ کر جل اٹھنا، یہ بھی پہلی بار ان کو اپنے والدین ہی کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ اس طرح والدین یا تو اپنے بچوں کو نیک عمل بناتے ہیں، یا ان کو بدعمل بنا دیتے ہیں۔
بچے کا گھر اس کا سب سے پہلا مدرسہ ہے، اور بچے کے والدین اس کے سب سے پہلے معلم۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.