← Tarbiat-e-AuladTarbiat-e-Aulad
Ghar ek tarbiyat gaah.
Urdu · 6 min
گھر ایک تربیت گاہ ہے۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "خیرکم خیرکم لأهله، وأنا خيرکم لأهلي." ابن ماجہ، حدیث نمبر 1977۔ یعنی تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو، اور میں تم میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کسی سماج کا ایک ابتدائی یونٹ ہے۔
جو کچھ زیادہ بڑے پیمانے پر پورے سماج میں پیش آتا ہے، وہی گھر کے اندر چھوٹے پیمانے پر پیش آتا ہے۔ آدمی کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ باہمی تعلقات کے درمیان ہوتا ہے۔ ہر گھر گویا انہی تجربات کا ایک چھوٹا ادارہ ہے، اور ہر سماج انہی تجربات کا ایک بڑا ادارہ۔ ہر عورت یا مرد جب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں تو ان کو کبھی خوشگوار تجربہ پیش آتا ہے اور کبھی ناخوشگوار تجربہ۔
کسی معاملے میں ان کے اندر نفرت کے جذبات بھڑکتے ہیں، اور کبھی محبت کے جذبات۔ کبھی وہ خوشی سے دوچار ہوتے ہیں اور کبھی ناخوشی سے۔ کبھی ان کی انا کو تسکین ملتی ہے اور کبھی ان کی انا پر چوٹ لگتی ہے۔ کبھی وہ اعتراف کی صورتحال میں ہوتے ہیں اور کبھی بے اعترافی کی صورتحال میں۔
کبھی حقوق کی ادائیگی کا موقع ہوتا ہے اور کبھی حقوق کے انکار کا موقع، وغیرہ۔ گھر کے اندر پیش آنے والی یہ مختلف حالتیں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے اپنی تیاری کے مواقع ہیں۔ جو لوگ ایسا کریں کہ وہ ہمیشہ اپنے شعورِ ایمان کو زندہ رکھیں، وہ اپنا احتساب کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ ان کو ہمیشہ آخرت کی پکڑ کا احساس لگا ہوا ہو۔
ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ جب بھی مذکورہ بالا قسم کا کوئی موقع ان کے سامنے آئے گا تو وہ متنبہ ہو جائیں گے اور صحیح اسلامی روش کو اختیار کریں گے۔ جو عورت اور مرد اپنے گھر کے اندر اس قسم کی ہوشمندانہ زندگی گزاریں، ان کے لیے ان کا گھر ایک تربیت گاہ بن جائے گا۔ ان کے گھر کا ماحول انہیں ہر صبح و شام تیار کرتا رہے گا۔ ان کی یہ زندگی ان کے لیے اس بات کی ضمانت بن جائے گی کہ جب وہ گھر کے باہر سماجی زندگی میں آئیں تو وہ سماج کے اندر بھی اسی طرح ایک حق پرست انسان ثابت ہوں جس طرح وہ اپنے گھر کے اندر حق پرست انسان ثابت ہوئے تھے۔
ایک آدمی جو اپنے گھر کے اندر لڑتا جھگڑتا ہو، وہ اسی طرزِ زندگی کا عادی بن جائے گا۔ جب وہ اپنے گھر سے باہر آئے گا تو یہاں بھی وہ لوگوں سے لڑنے جھگڑنے لگے گا۔ اپنے آفس میں، اپنے کاروبار میں، روزمرہ کی زندگی میں، وہ دوسروں کے ساتھ بھی اسی طرح غیر معتدل انداز میں رہے گا جس طرح وہ اپنے گھر کے اندر غیر معتدل انداز میں رہ رہا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے گھر کے معاملات بھی بگڑ جائیں گے اور اس کے باہر کے معاملات بھی۔
اسی طرح کچھ ایسے لوگ ہیں جو اپنے گھر کے اندر تو غیر مہذب انداز میں رہتے ہیں، لیکن جب وہ باہر آتے ہیں تو دوسروں کے ساتھ ان کا رویہ تہذیب اور شائستگی کا رویہ بن جاتا ہے۔ اس طرح وہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کی نظر میں اچھے بنے رہیں۔ مگر یہ ایک منافقت ہے، اور اللہ کو منافقت پسند نہیں۔ کسی مسلمان پر جو دینی ذمہ داری ہے، وہ صرف اس طرح ادا نہیں ہو جاتی کہ وہ مسجد میں پانچ وقت کی نماز پڑھ لے، رمضان کے روزے رکھ لے، اور مکہ جا کر حج کر لے۔
اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ لوگوں کے ساتھ اس کا اخلاق اچھا ہو۔ انسانوں کے ساتھ سلوک میں وہ خدائی احکام کی پابندی کرتا ہو۔ لوگوں کے درمیان وہ اس احساس کے ساتھ رہے کہ اس کو اپنے ہر قول اور ہر فعل کا جواب خدا کو دینا ہے۔ موجودہ دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے۔
ایک طرح کی زندگی انسان کو جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور دوسری طرح کی زندگی اس کو جہنم کا مستحق بنا دیتی ہے۔ زندگی کی اس امتحانی نوعیت کا تعلق گھر کے اندر کے معاملات سے بھی ہے اور گھر کے باہر کے معاملات سے بھی۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 40۔