رزق کا معاملہ قرآن میں ایک حقیقت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ سورہ نمبر 31، آیت 34۔ یعنی: اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین پر مرے گا۔ اسی بات کو ایک حدیثِ رسول میں بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: "جبریل نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم میں سے کوئی اس دنیا سے ہرگز نہیں جا سکتا، یہاں تک کہ وہ اپنے رزق کو مکمل کر دے" حَتَّىٰ يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ تو اے لوگو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور طلب میں خوبصورتی پیدا کرو۔
مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 2136۔ قرآن کی اس آیت اور اس حدیثِ رسول کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی معاش کا معاملہ خدا کی طرف سے طے ہوتا ہے، نہ کہ انسان کے باپ کی طرف سے۔ موجودہ زمانہ اس معاملے کا ایک مظاہرہ، یعنی ڈیمونسٹریشن ہے۔ موجودہ زمانے میں تقریباً ہر جگہ یہ منظر دکھائی دے رہا ہے کہ باپ اندھا دھند کماتا ہے، اس کا یہ کمانا اور گھر بنانا اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے بچے اس کے اندر آرام کی زندگی گزاریں۔
لیکن ہر ایک کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ باپ کی بنائی ہوئی دنیا میں رہنا ان کو نصیب نہیں ہوتا۔ وہ عملاً اس دنیا میں جیتا اور مرتا ہے۔ وہ عملاً اس دنیا میں جیتا اور مرتا ہے جو اس نے خود بنائی تھی۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو صرف ایک نسل میں زندگی کا سارا نقشہ بدل جاتا ہے۔
باپ نے کچھ چاہا تھا اور عملاً کچھ اور ہوا۔ اس عام تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ رازق بننے کی کوشش کرے۔ باپ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زندگی کا شعور دے۔ وہ اپنی اولاد کو رازِ حیات بتائے۔
وہ اپنی اولاد کو خالق کا تخلیقی نقشہ بتائے، نہ یہ کہ وہ خود خالق کی سیٹ پر بیٹھ جائے۔ اس کے علاوہ باپ کچھ بھی کرے، لیکن عملاً وہی ہوگا جو خالق نے مقدر کیا ہے۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 38۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.