قناعت اور ترقی۔ کم آمدنی والے لوگوں میں میں نے اکثر ایک مشترک مزاج پایا ہے، وہ یہ کہ یہ لوگ اکثر اس فکر میں رہتے ہیں کہ اپنی آمدنی کو کسی نہ کسی طرح بڑھائیں تاکہ ان کے بچوں کو زیادہ آرام و راحت مل سکے۔ اس قسم کے ایک صاحب کو مشورہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ ایک غلط مزاج ہے، یہ مزاج آدمی کو طرح طرح سے نقصان پہنچاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا ملا ہوا سکون بھی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس صحیح مزاج یہ ہے کہ آدمی آئندہ ترقی کے معاملے کو بچوں پر چھوڑ دے، اس کو جو کچھ مل رہا ہے اس پر وہ راضی رہ کر گزارا کرنے کی کوشش کرے۔
اس کی آمدنی اگر فطری طور پر بڑھ جائے تو وہ اس کو اللہ کا انعام سمجھ کر ادا کرے، لیکن وہ اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے زیادہ ہاتھ پاؤں نہ مارے۔ اس کو چاہیے کہ وہ زیادہ آمدنی کے لیے اپنے بچوں کو تیار کرے، بچوں کو تعلیم دینا، بچوں کو ہنر سکھانا، بچوں کے اندر شعور حیات پیدا کرنا، یہ سب مستقبل کے لیے اس کا نشانہ ہونا چاہیے۔ اس کا دو نکاتی فارمولا یہ ہونا چاہیے: اپنے لیے قناعت اور بچوں کے لیے ترقی۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 37۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.