ایک عام کمزوری: ایک مسلمان اپنی اہلیہ کے ساتھ ملاقات کے لیے آئے۔ ایک گھنٹے کی ملاقات کے دوران میں نے محسوس کیا کہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ان کو کوئی قلبی تعلق نہیں، البتہ اس دوران ان کے موبائل پر بار بار ان کے بچوں کے ٹیلیفون آتے رہے۔ اپنے بچوں سے ٹیلیفون پر وہ اس طرح گفتگو کرتے تھے جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان کو اپنے بچوں سے نہایت گہرا قلبی تعلق ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کا کیس اسی طرح ایک نادان باپ کا کیس ہے جیسا کہ دوسروں کا کیس ہوتا ہے۔
آپ جیسے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ آپ کو جو چیز عملاً ملی ہوئی ہے، اس کو آپ بھرپور طور پر استعمال نہیں کرتے، اور جو چیز آپ کو ملنے والی نہیں، اس کو آپ اپنا سب سے بڑا کنسرن بنائے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کے پاس دو چیزیں ایسی ہیں جو عملاً آپ کو حاصل ہو چکی ہیں: ایک آپ کا اپنا وجود اور دوسری آپ کی بیوی۔ آپ نے اپنے معاملے میں یہ کیا کہ آپ اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے، اور بیوی کے معاملے میں آپ کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ان کو نظرانداز کیے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ مایوسی کا شکار ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا کوئی تخلیقی کردار، یعنی کریئیٹو رول، دریافت نہ کر سکیں۔
دوسری طرف آپ کا یہ حال ہے کہ آپ کی تمام دلچسپیاں اپنے بچوں کے ساتھ وابستہ ہو گئی ہیں، حالانکہ یہ بچے آپ کو ملنے والے نہیں۔ آپ کا بیٹا اور آپ کی بیٹی دونوں آپ کو چھوڑ کر خود اپنی الگ زندگی بنائیں گے، وہ ہرگز آپ کے کام آنے والے نہیں۔ آپ ملی ہوئی چیز کو ضائع کر رہے ہیں، اور نہ ملنے والی چیز کے لیے آپ بے فائدہ طور پر اپنی تمام توجہ لگائے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ موجودہ زمانے میں تقریباً تمام لوگوں کا ہے۔
موجودہ زمانے میں ہر آدمی کھونے کا کیس بن رہا ہے، کوئی آدمی حقیقی معنوں میں پانے کا کیس نہیں۔ آدمی اپنی اس غفلت کو اپنی عمر کے آخر میں اس وقت دریافت کرتا ہے جبکہ اس تباہ کن غفلت کی تلافی کا وقت اس کے پاس نہیں ہوتا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ حاصل شدہ کو اپنا مرکز عمل بنائے، نہ کہ غیر حاصل شدہ کو۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 34۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.