Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Khuda ka eateraaf nahi.

Urdu · 3 min

خدا کا اعتراف نہیں۔ آج کل یہ رواج ہے کہ ایک شخص پیسہ کمائے گا، اور اس کے بعد وہ ایک کار خرید کر اپنے بیٹے کو دے گا۔ کار کے شیشے پر لکھا ہوا ہوگا: "باپ کی طرف سے تحفہ"، یعنی ڈیٹس گفٹ۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔

اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ناشکری کا کلمہ ہے۔ ایک نعمت جو حقیقتاً خدا کی طرف سے ملی ہے، اس کو خدا کی طرف منسوب نہ کرنا، بلکہ اس کو خود اپنے کمالات کے خانے میں ڈال دینا، یہ خدا کے ساتھ بے اعترافی کا معاملہ کرنا ہے۔ اور خدا کے ساتھ بے اعترافی، بلاشبہ خدا کی اس دنیا میں سب سے بڑے جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کی سورہ النمل میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر سلیمان ابن داؤد کو ایک مادی نعمت ملی تو انہوں نے فوراً کہا: "هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي" سورہ نمبر 27 آیت 40۔

یعنی: یہ میرے رب کے فضل میں سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پیغمبر نے اس کو خدا کا عطیہ، یعنی گاڈز گفٹ، قرار دیا۔ یہی صحیح ایمانی طریقہ ہے۔ صاحبِ ایمان وہ ہے جو ہر چیز کو خدا کی چیز سمجھے، جو ہر ملی ہوئی چیز کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہوئے خدا کا اعتراف کرے۔

دنیا میں انسان کو جو چیزیں ملتی ہیں، وہ بظاہر خود اپنی کوشش کے ذریعے ملتی ہیں، لیکن یہ صرف اس کا ظاہری پہلو ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز مکمل طور پر خدا کا عطیہ ہوتی ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردے کو پھاڑے، وہ اصل حقیقت کو دریافت کرتے ہوئے ہر ملی ہوئی چیز پر یہ کہہ دے کہ یہ میرے رب کا عطیہ ہے، جو براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے مجھ کو دیا گیا۔ اسی اعتراف، یعنی اکنالجمنٹ، کا مذہبی نام شکر ہے۔

یہاں اسی شخص کو جائز طور پر رہنے کا حق حاصل ہے جو شکر و اعتراف کی نفسیات کے ساتھ اس دنیا میں رہے۔ شکر کی یہی نفسیات موجودہ دنیا میں کسی کو جائز طور پر جینے کا حق دیتی ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے اندر ناشکری اور بے اعترافی کی نفسیات ہو، وہ خدا کی اس دنیا میں مجرم اور درانداز، یعنی انٹروڈرس، کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 33۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.