← Tarbiat-e-AuladTarbiat-e-Aulad
Ek virasat ye bhi hai.
Urdu · 8 min
ایک وراثت یہ بھی ہے: کریم بخش سیدھے سادھے دیندار آدمی تھے، گاؤں کی معمولی آمدنی پر گزر کر لیتے۔ 65 سال کی عمر میں وہ 4 بچے چھوڑ کر مرے، تو ان کے لیے انہوں نے کوئی قابلِ ذکر جائیداد نہیں چھوڑی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے رحیم بخش شہر چلے آئے تاکہ اپنے لیے کمائی کی کوئی صورت کر سکیں۔ شہر میں انہوں نے مختصر سرمائے کے ساتھ ایک کاروبار شروع کر دیا۔
رحیم بخش کے والد نے ان کے لیے کوئی مادی وراثت نہیں چھوڑی تھی، مگر قناعت اور سادگی، اور کسی سے لڑے بھڑے بغیر اپنا کام کرنے کی وراثت چھوڑی تھی۔ یہ وراثت رحیم بخش کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئی۔ ان کی سادگی اور قناعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ معمولی آمدنی کے باوجود وہ مسلسل ترقی کرنے لگے۔ ان کا لڑائی بھڑائی سے بچنے کا مزاج ان کے لیے مزید معاون ثابت ہوا۔
ہر ایک ان سے خوش تھا، ہر ایک سے ان کو تعاون مل رہا تھا۔ ان کی ترقی کی رفتار اگرچہ سست تھی، مگر وہ ایک دن رکے بغیر جاری رہی۔ رحیم بخش کا کاروبار اگرچہ معمولی تھا، مگر ان کی شرافت، ان کی بے غرضی، اور ان کی ایمانداری نے ان کو اپنے ماحول میں اتنی عزت دے رکھی تھی جیسے کہ وہ کوئی بڑی حیثیت کے آدمی ہوں۔ ان کے پاس سرمایہ بہت کم تھا، مگر لین دین میں صفائی اور وعدے کا پکا ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بازار میں بڑے بڑے تھوک بیوپاری ان سے کہتے کہ میاں جی، جتنا چاہے مال لے جاؤ، پیسے کی پرواہ نہ کرو، پیسے بات کو آ جائیں گے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی سے جھگڑے کی نوبت آ گئی، مگر انہوں نے خود ہی اپنے کو چپ کر لیا۔ وہ شریر آدمی کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرتے، بلکہ خاموشی سے اپنے کاروبار میں لگ جاتے اور اس کے حق میں دعا کرتے رہتے۔ جب ان کے دل میں شیطان کوئی بد معاملتگی کا جذبہ ڈالتا تو ان کے والد کا معصوم چہرہ ان کے سامنے آ جاتا۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میں نے کوئی غلط معاملہ کیا یا کسی سے جھگڑا فساد کیا تو میرے باپ کی روح قبر میں تڑپ اٹھے گی۔
یہ خیال فوراً ان کے جذبات کو دبا دیتا۔ وہ دوبارہ اسی تعمیری راستے پر چل پڑتے جس میں انہیں ان کے باپ نے چھوڑا تھا۔ ان کا کاروبار بڑھا تو ان کو مزید معاون کی ضرورت ہوئی۔ اب انہوں نے اپنے بھائیوں کو بلانا شروع کیا، یہاں تک کہ چاروں بھائی شہر میں منتقل ہو گئے۔
دھیرے دھیرے ان کے کاروبار کے چار مستقل شعبے ہو گئے۔ ہر شعبہ ایک ایک بھائی کے سپرد تھا۔ چاروں بھائی ایک ساتھ مل کر رہتے اور ساتھ کھاتے پیتے۔ مگر کاروباری اعتبار سے ہر بھائی اپنے اپنے شعبے کو آزادانہ طور پر انجام دیتا تھا۔
کچھ دنوں کے بعد رحیم بخش کو محسوس ہوا کہ بڑے بھائی ہونے کی حیثیت سے چونکہ وہی کاروبار کے مالک ہیں، اس لیے بقیہ بھائی اپنے کام کو اس دلچسپی سے نہیں کرتے جیسا کہ کوئی آدمی اس وقت کرتا ہے جبکہ وہ کام کو اپنا ذاتی کام سمجھتا ہو۔ اب رحیم بخش کے لیے دو صورتوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کا سوال تھا۔ یا تو کاروبار کو اپنے قبضے میں لے کر بقیہ تینوں بھائیوں کو اس سے الگ کر دے، اور اس کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے بھائیوں کی دشمنی خریدیں۔ دوسرے یہ کہ معاملات کو اسی طرح چلنے دے، یہاں تک کہ بالآخر وہی ہو جو عام طور پر مشترک کاروبار میں ہوتا ہے، یعنی باہمی شکایت اور اس کے بعد تلخ یادوں کے ساتھ کاروبار کی تقسیم۔
رحیم بخش نے چند دن سوچا، اور اس کے بعد سب بھائیوں کو جمع کر کے ساری بات صاف صاف ان کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے ابھی کوئی بات بگڑی نہیں ہے۔ بہترین بات یہ ہے کہ چاروں بھائی ایک ایک کاروبار کو لیں اور ہر ایک ذاتی طور پر اپنا کاروبار چلائے۔ اس طرح ہمارے والد کی روح کو سکون پہنچے گا، اور مجھے یقین ہے کہ اس میں ہر ایک کے لیے زیادہ برکت ہوگی۔
تینوں بھائیوں نے کہا کہ ہم تو سراپا آپ کے احسان مند ہیں، اس لیے آپ جو بھی فیصلہ کر دیں وہ ہم کو منظور ہے۔ مختصر گفتگو کے بعد یہ طے ہوا کہ قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ چنانچہ اسی وقت قرعہ کے ذریعے ہر بھائی کو ایک ایک کاروبار دے دیا گیا۔ اب چاروں بھائی اپنے اپنے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔
ہر ایک اپنے بچوں کو لے کر اپنے اپنے کام میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہے۔ چاروں کے درمیان پہلے سے بھی زیادہ اچھے تعلقات ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ چاروں نے الگ الگ اپنے مکانات بنا لیے ہیں، مگر رحیم بخش اب بھی اسی طرح سب کے بڑے بھائی ہیں جیسے وہ پہلے بڑے بھائی تھے۔
ایک بھائی جو بات کہہ دے، اس کو دوسرا بھائی کبھی نہیں ٹالتا۔ ایک گھر میں کوئی ضرورت پیش آ جائے تو چاروں گھروں کی عورتیں اور بچے مل کر اس کو اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ ہر ایک کا اپنا کام ہو۔ اکثر باپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی اولاد کے لیے سب سے بڑی وراثت یہ ہے کہ وہ ان کے لیے مال اور جائیداد چھوڑ کر اس دنیا سے جائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ خوش نصیب اولاد وہ ہے جس کے باپ نے اس کے لیے بااصول زندگی کی وراثت چھوڑی ہو۔
وہ اپنی اولاد کو یہ سبق دے کر دنیا سے گیا ہو کہ اپنی محنت پر بھروسہ کرو، لوگوں سے الجھے بغیر اپنا کام کرو، اپنے واجبی حق پر قناعت کرو، حال کے فائدوں سے زیادہ مستقبل کے امکانات پر نظر رکھو۔ خوش خیالیوں میں گم ہونے کے بجائے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرو۔ مادی وراثت سے زیادہ بڑی چیز اخلاقی وراثت ہے۔ مگر بہت کم باپ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔
کتاب: تربیت اولاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔