Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Baap ka tohfa.

Urdu · 3 min

باپ کا تحفہ۔ اگر کوئی باپ اپنے بچوں کو مادی چیزیں نہ دے سکے، مثلاً گھر اور مال جیسی چیزیں، اس کے پاس دینے کے لیے نہ ہوں تو ایسا باپ ہمیشہ اس احساس میں جیتا ہے کہ "میں ایک نالائق باپ ثابت ہوا"۔ میں اپنے بچوں کا باپ ہوتے ہوئے بھی ان کی دنیا تعمیر نہ کر سکا۔ اپنے بچوں کے لیے کسی باپ کا یہ احساس کوئی مثبت احساس نہیں۔

اس کے برعکس، صحیح احساس یہ ہے کہ جو باپ اپنے بچوں کے لیے دنیا کی چیزیں دے سکے، وہ اس بات کا شکر ادا کرے کہ اللہ نے اس کو دینے کے قابل بنایا۔ اللہ نے اس کو ہاتھ پاؤں دیا، کمانے کی صلاحیت دی، اس طرح وہ اس قابل بنا کہ اپنے بچوں کو دینے کی چیزیں دے سکے۔ لیکن جو باپ اپنے بچوں کو دنیا کی چیزیں نہ دے سکے، اس کے پاس بھی اپنے بچوں کو دینے کے لیے بہت بڑی چیز موجود ہوتی ہے، اور وہ دعا ہے۔ وہ اپنی دعاؤں میں یہ کہہ سکتا ہے کہ "اے اللہ، میں اپنے بچوں کا باپ تھا، لیکن میں اپنے بچوں کو دینے کی چیز نہ دے سکا۔

تو میرا اور میرے بچوں کا رب ہے۔ تو میرے بچوں کو وہ چیز دے دے جو میں ان کو نہ دے سکا۔ تو میرے بچوں کے لیے میری طرف سے وہ دعا قبول فرما جس میں تو نے انسان کو یہ تلقین کی ہے: ربنا آتنا فی الدنیا حسنة وفی الآخرة حسنة وقنا عذاب النار سورہ نمبر 2 آیت 201۔ اگر کوئی باپ اپنے بچوں کے لیے یہ دعا کر سکے تو اس نے اپنے بچوں کو زیادہ بڑی چیز دے دی۔

وہ چاہتا تھا کہ خود اپنے آپ کو اپنے بچوں کے لیے دے سکے، لیکن اس کے حالات نے اس کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی دعاؤں کے ذریعے اپنے بچوں کو اپنے رب کے حوالے کر دے۔ گویا کہ اپنے آپ کو نہ دے کر خود اللہ رب العالمین کا ہاتھ بچوں کے سر پر دے دیا۔ وہ اپنی اولاد کو چھوٹی چیز دینا چاہتا تھا، لیکن اس کے حالات نے اس کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنے بچوں کو زیادہ بڑی چیز دے دے، یعنی اللہ رب العالمین کو۔ کتاب تربیت اولاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.