Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Husne aqlaq ki virasat.

Urdu · 2 min

حسنِ اخلاق کی وراثت ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: «ما ورّث والدٌ ولدًا خيرًا من أدبٍ حسنٍ» المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 3658۔ یعنی کسی باپ کی طرف سے اپنی اولاد کو سب سے عمدہ وراثت اچھا ادب سکھانا ہے۔ ادب کا مطلب عربی زبان میں حسنِ اخلاق یعنی good conduct ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی انسان کے اندر پہلے اچھی سوچ آتی ہے، اس کے بعد اس کے اندر اچھا اخلاق آتا ہے۔

اچھی سوچ حسنِ اخلاق کی بنیاد ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی اولاد کے اندر درست طرزِ فکر، یعنی right thinking، پیدا کرے۔ جس آدمی کے اندر درست طرزِ فکر ہو، اس کا ہر رویہ درست ہو جائے گا۔ ایسے آدمی کی سوچ درست سوچ ہوگی۔

ایسے آدمی کا سلوک درست سلوک ہوگا۔ ایسے آدمی کا معاملہ، یعنی dealing، درست معاملہ ہوگا۔ ایسے آدمی کی منصوبہ بندی درست منصوبہ بندی ہوگی۔ خلاصہ یہ ہے کہ آدمی مکمل طور پر مثبت سوچ، یعنی positive thinking، کا حامل ہوگا۔

وہ منفی سوچ، یعنی negative thinking، سے مکمل طور پر خالی ہوگا۔ جس آدمی کے اندر یہ حسنِ ادب موجود ہو، وہ اپنے ہر معاملے میں ایک بہتر انسان ہوگا۔ ایسا آدمی خواہ اپنے گھر کے اندر ہو یا وہ گھر کے باہر ہو، وہ اپنوں سے معاملہ کرے یا غیروں سے معاملہ، ہر حال میں وہ درست رویے پر قائم رہے گا۔ اس کی درست سوچ ایک ایسا عامل، یعنی factor، بن جائے گی جو اس کو ہر موقع پر بے بے راہ روی سے بچائے گی۔

ایسا آدمی ایک سنجیدہ انسان ہوگا۔ ایسا آدمی ذمہ دارانہ اخلاق کا حامل ہوگا۔ ایسے آدمی کے اندر وہ کردار ہوگا جس کو قابلِ پیشنگوئی کردار، یعنی predictable character، کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ کسی انسان کے لیے اپنے سرپرستوں کی طرف سے یہ سب سے زیادہ قابلِ قدر عطیہ ہے۔

کتاب: تربیتِ اولاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.