Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Tarbiat gaah.

Urdu · 3 min

تربیت گاہ: ایک حدیثِ رسول کا ترجمہ یہ ہے: "تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔ " ابن ماجہ، حدیث نمبر 1977۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنے گھر کے لوگوں سے معاملہ کرنے میں بہتر ہوگا، وہ باہر والوں سے معاملہ کرنے میں بھی بہتر ثابت ہوگا۔ گھر ہر آدمی کی فطری تربیت گاہ ہے۔

گھر کے اندر محدود سطح پر وہ سارے معاملات پیش آتے ہیں جو باہر سماج کے اندر زیادہ وسیع طور پر پیش آتے ہیں۔ اس لیے جو آدمی محدود دائرے میں بہتر انسانیت کا ثبوت دے گا، وہ باہر کے وسیع تر دائرے میں بھی بہتر انسانیت کا ثبوت دے گا۔ وہ باہر کے وسیع تر دائرے میں بھی بہتر انسانیت والا بن کر رہ سکے گا۔ ایک صاحب گورنمنٹ سروس میں تھے، ان کا نظریہ تھا کہ بیوی کو دبا کر رکھنا چاہیے۔

گھر کے اندر وہ روزانہ اپنے اسی نظریے پر عمل کرتے۔ وہ ہمیشہ گھر کی خاتون کے ساتھ سخت انداز میں بولتے۔ وہ ان کے ساتھ شدت والا سلوک کرتے، تاکہ وہ ان کے مقابلے میں دب کر رہیں۔ گھر کی تربیت گاہ میں ان کا جو مزاج بنا، اسی کو لے کر وہ دفتر میں پہنچے۔

یہاں ان کی افسر، باس، اتفاق سے ایک خاتون تھیں۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہاں بھی ان کا وہی گھر والا مزاج قائم رہا۔ وہ اپنی افسر خاتون کے ساتھ بھی اسی قسم کا مردانہ معاملہ کرنے لگے، جس کے عادی وہ اپنے گھر کی خاتون کے ساتھ ہو چکے تھے۔ لیڈی افسر ابتداً ان کے ساتھ ٹھیک تھیں، مگر ان کے غیر معتدل انداز نے لیڈی افسر کو بھی ان سے برہم کر دیا۔

اس نے بگڑ کر ان کا ریکارڈ خراب کر دیا۔ ان کا پروموشن رک گیا۔ وہ طرح طرح کی دفتری مشکلات میں پھنس گئے۔ صحیح اصول وہ ہے جو گھر کے اندر اور گھر کے باہر دونوں جگہ یکساں طور پر مفید ہو۔

یہ اصول شرافت کا اصول ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ گھر کے اندر شرافت کے ساتھ رہے، وہ بڑوں کو عزت دے، اور چھوٹوں کے ساتھ مہربانی کا سلوک کرے۔ یہ اصول گھر کے اندر بھی کامیاب ہے اور گھر کے باہر بھی۔ یہ آدمی کی اپنی ضرورت ہے کہ وہ گھر کے اندر اعتدال کے ساتھ رہے اور گھر کے باہر بھی۔

کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 26۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.