← Tarbiat-e-AuladTarbiat-e-Aulad
Khandan ki ahmiyyat.
Urdu · 4 min
خاندان کی اہمیت: خاندان، یعنی فیملی، وسیع تر انسانیت کا ایک یونٹ ہے۔ خاندان کے اندر محدود دائرے میں وہ تمام حالات پیش آتے ہیں جو وسیع تر انسانیت کے اندر زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آتے ہیں۔ اس اعتبار سے خاندان ہر ایک کے لیے گویا ایک تربیتی اسکول ہے۔ ہر آدمی اپنے خاندان کے اندر ان تمام باتوں کو سیکھ سکتا ہے جو دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہیں، مگر اس کی ایک شرط ہے: وہ یہ کہ آدمی خاندان پرستی کا شکار نہ ہو۔
وہ اپنے خاندان کو بھی اسی نظر سے دیکھے جس طرح کوئی شخص دوسرے انسانوں کو دیکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جتنے مختلف قسم کے کریکٹر ہیں، وہ سب کریکٹر ہر آدمی کے اپنے خاندان کے افراد میں موجود ہوتے ہیں۔ خاندان ہر آدمی کے لیے روایتی جام جمشید کی مانند ہے۔ خاندان کے آئینے میں آدمی ہر قسم کے اخلاق کا نمونہ دیکھ سکتا ہے۔
اس طرح ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے خاندان اور رشتہ داروں کو دیکھ کر زندگی کا تجربہ حاصل کرے، اور اپنی زندگی کی حقیقت پسندانہ انداز میں منصوبہ بندی یعنی پلاننگ کرے۔ مگر بہت کم ایسے افراد ہیں جو اس قریبی امکان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس محرومی کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے لوگوں کے اندر موضوعی طرز فکر کا نہ ہونا۔
لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کے بارے میں بہت جلد متعصبانہ طرز فکر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کو اپنے گھر والوں کی غلطی دکھائی نہیں دیتی۔ وہ خاندان سے باہر کے افراد کے بارے میں غیر ہمدردانہ انداز میں سوچتے ہیں، اور اپنے خاندان کے افراد کے بارے میں ہمدردانہ انداز میں۔ وہ خاندان سے باہر کے افراد کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنے خاندان کے افراد کو دوسری نظر سے۔
اس طرح ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ نہ اپنوں کی زندگی سے سبق حاصل کرتے ہیں اور نہ دوسروں کی زندگی سے کوئی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ اگست 1996 میں میرا امریکہ کا سفر ہوا۔ وہاں ماؤنٹ ہالی یعنی نیو جرسی کی مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں زیادہ تر عورتیں شریک تھیں۔
اس میں خطاب کا موضوع تھا کہ "امریکی معاشرے میں بچوں کا اسلامی تحفظ"۔ اس پر بولتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا: میں نے کہا کہ اگلی نسل کا اسلامی تحفظ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک مولوی صاحب کو مقرر کر دیں جو روزانہ شام کو آ کر دینیات پڑھا دے، یا کوئی دینی رسالہ آپ اپنے بچوں کے نام جاری کر دیں، یا انہیں کلچرل نوعیت کی کچھ چیزوں کا عادی بنانے کی کوشش کریں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اگر آپ کو اپنے بچوں کو اسلامائز کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھر کو اسلامائز کیجیے۔ آپ کے گھر میں دنیا کا چرچا نہ ہو، بلکہ دین کا چرچا ہو۔
گھر کا ماحول مادی رنگ میں رنگا ہوا نہ ہو، بلکہ آخرت کے رنگ میں رنگا ہوا ہو۔ دوسری بات یہ کہ آپ اپنے بچوں کے اندر داعیانہ اسپرٹ پیدا کریں۔ یہ ایک اصول ہے کہ جو داعی نہیں بنتا، اس کو مدعو بننا پڑتا ہے۔ اس لیے اگر آپ نے اپنے بچوں کے اندر داعیانہ اسپرٹ نہیں پیدا کی تو وہ دوسروں سے متاثر ہو کر رہیں گے۔
یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کا قانون کبھی نہیں بدلتا۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 24۔