Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Family culture ka noqsaan.

Urdu · 3 min

فیملی کلچر کا نقصان موجودہ زمانے میں خاص طور پر، اور مشرقی دنیا میں عام طور پر، لوگوں کے درمیان ایک ہی کلچر کا رواج ہے اور وہ فیملی کلچر ہے، یعنی پیسہ کمانا اور گھر والوں کے تقاضے پورا کرنا۔ لوگوں کو صرف یہی ایک ماڈل معلوم ہے، اس کے سوا کسی اور ماڈل کا انہیں علم نہیں۔ اس فیملی کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ عملاً تحمیقِ خاندان، یعنی بیفولنگ آف فیملی، کے ہم معنی بن گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ کا دائرہ بہت محدود ہو گیا ہے؛ ان کا ذہن صرف اپنی مادی ضرورتوں کے محدود دائرے میں کام کرتا ہے۔

وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ وہ اس محدود دائرے کے باہر سوچیں۔ ان کے یہاں کتابوں کے مطالعے کا ماحول نہیں ہوتا، ان کے یہاں سنجیدہ تبادلۂ خیال یعنی سیریس ڈسکشن کا رواج نہیں ہوتا۔ ان کے یہاں یہ کلچر نہیں ہوتا کہ وہ رشتہ داروں کے علاوہ لوگوں سے ملیں اور ان سے سیکھنے اور استفادہ کرنے کی کوشش کریں۔ وہ اپنے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو جاب کے لیے، یا تفریح کے لیے، یا شاپنگ کے لیے۔

اس قسم کی چیزوں کے علاوہ ان کے یہاں ذہنی ارتقاء کا کوئی تصور نہیں۔ اس فیملی کلچر کا نقصان یہ ہے کہ لوگ بظاہر مادی اعتبار سے آسودہ زندگی گزار رہے ہیں، لیکن عملاً وہ فکری پسماندگی، یعنی انٹلیکچول بیکورڈنس، کا شکار ہیں۔ ان سے کسی سنجیدہ موضوع پر بات کیجیے تو فوراً معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اندر کوئی علمی سوچ نہیں، ان کو حقائقِ عالم کی معرفت نہیں، زندگی کے زیادہ بڑے مسائل کے بارے میں ان کی کوئی رائے نہیں۔ بظاہر وہ انسان نظر آئیں گے، لیکن عملاً وہ صرف ایک خوش پوش حیوان، یعنی ویل ڈریسڈ اینیمل، کی مانند ہوں گے۔

خاندانی زندگی کی تشکیل اس طرح ہونی چاہیے کہ وہ لوگوں کے لیے ان کے ذہنی ارتقاء، یعنی انٹلیکچول ڈیولپمنٹ، میں مددگار ہو، نہ کہ لوگوں کے ذہنی ارتقاء کے لیے وہ ایک مستقل رکاوٹ بن جائے۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 32۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.