← Tarbiat-e-AuladTarbiat-e-Aulad
Bachchon ki tarbiyat.
Urdu · 7 min
بچوں کی تربیت: ایک مغربی ملک میں مقیم ایک مسلم خاندان نے اس کا اظہار کیا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کچھ دنوں کے لیے آ کر ہمارے یہاں ٹھہریں اور ہم سے اسلامی تربیت حاصل کریں۔ میں نے اس تجویز کو رد کر دیا۔ میرے نزدیک یہ تربیت کا ایک مصنوعی طریقہ ہے؛ اس دنیا میں کوئی بھی نتیجہ خیز کام صرف فطری طریقے کے مطابق انجام پاتا ہے۔ غیر فطری طریقہ کسی بھی کام کے لیے ہرگز مفید نہیں۔
اس سلسلے میں مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے: اپریل 1981 میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے تحت میں باربیڈوز گیا تھا۔ اس سلسلے میں وہاں کے مقیم مسلمانوں نے ایک مسجد میں میرا پروگرام رکھا۔ ایک صاحب اپنے ایک بچے کو اپنے ساتھ لے کر وہاں آئے۔ یہ بچہ، جو تقریباً 12 سال کا تھا، وہ اصل اجتماع کے باہر ایک مقام پر اس طرح بیٹھا کہ اس کی پیٹھ میری طرف تھی اور اس کا چہرہ دوسری طرف۔
ایک شخص نے اس سے کہا کہ تم اس طرح کیوں بیٹھے ہو، اندر چل کر لوگوں کے ساتھ بیٹھو۔ لڑکے نے نہایت بے پرواہی کے ساتھ جواب دیا: "می ناٹ" یعنی مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ یہ واقعہ موجودہ زمانے کے تمام مسلم خاندانوں کے لیے ایک علامتی واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کل کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ محنت کر کے کماتے ہیں اور پھر محبت کے نام پر اپنی کمائی کا بڑا حصہ بچوں پر خرچ کرتے ہیں۔
مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ محبت نہیں ہے، بلکہ وہ لاٹ پیار یعنی پیمپرنگ ہے۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ بچوں کو بگاڑنے کا سب سے بڑا سبب یہی لاٹ پیار ہے۔ کسی بچے کا ابتدائی تقریباً 10 سال وہ ہے جس کو نفسیاتی اصطلاح میں تشکیلی دور یعنی فارمیٹیو پیریڈ کہا جاتا ہے۔ یہ تشکیلی دور بے حد اہم ہے، کیونکہ اس تشکیلی دور میں کسی کے اندر جو شخصیت بنتی ہے وہ بے حد اہم ہے۔
یہی شخصیت بعد کی پوری عمر میں باقی رہتی ہے۔ اسی حقیقت کو ایک عربی مقولے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "من شب على شيء شاب عليه" یعنی آدمی جس چیز پر جوان ہوتا ہے، اسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تشکیلی دور یعنی فارمیٹیو پیریڈ میں نام نہاد محبت کے ذریعے بچوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آج کل کے تمام والدین اپنے بچوں کو می ناٹ بچے یعنی می ناٹ چلڈرن بنا دیتے ہیں۔
اس کے بعد وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کسی کرشمہ ساز تربیتی طریقے یعنی کیریزمیٹک میتھڈ آف ٹریننگ کے ذریعے اصلاح یافتہ بنائیں۔ میرے تجربے کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے والدین اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ نہیں۔ اس معاملے میں اگر کوئی باپ زیادہ سے زیادہ سوچ پاتا ہے تو وہ صرف یہ کہ وہ اپنے بیٹے کو گول ٹوپی اور اپنی بیٹی کو اسکارف پہنا دے اور پھر خوش ہو کہ اس نے اپنی اولاد کو اسلامی تربیت سے مزین کر دیا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ ہو تو اس کے لیے میں چند عملی مشورے یہاں درج کروں گا۔
نمبر 1: محبت کے نام پر لاٹ پیار یعنی پیمپرنگ کو وہ اس طرح چھوڑ دیں جیسے وہ کسی حرام کو چھوڑتے ہیں۔ محبت کے نام پر جو لاٹ پیار کیا جاتا ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ بچے کو زندگی کے حقائق یعنی ریالیٹیز سے بالکل بے خبر کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے کے اندر حقیقت پسندانہ طرز فکر یعنی ریئلسٹک اپروچ کا نشونما نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ اس کے نتیجے میں بچے کے اندر ایک خود پسند شخصیت یعنی سیلف سینٹرڈ پرسنیلٹی تشکیل پاتی ہے، جو کسی آدمی کے لیے کامیاب زندگی کی تعمیر میں بلاشبہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
نمبر 2: اس سلسلے میں یہ بات بہت زیادہ قابل لحاظ ہے کہ بچے کی عمر کا ابتدائی تشکیلی دور ماں باپ کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس دور میں بچے کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ ہمیشہ بدستور اس کے اندر باقی رہتی ہے۔ والدین کو جاننا چاہیے کہ اس ابتدائی تشکیلی دور میں اگر انہوں نے بچے کی تربیت میں غلطی کی تو بعد کے زمانے میں اس کی تلافی کبھی نہ ہو سکے گی۔ بعد کے زمانے میں ایسے کسی شخص کی اصلاح کی صرف ایک ممکن صورت ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ اس کو شدید نوعیت کا کوئی ہلا دینے والا تجربہ یعنی شاکنگ ایکسپیرینس پیش آئے، جو اس کے لیے ایک نقطہ انقلاب یعنی ٹرننگ پوائنٹ بن جائے۔
مگر بہت کم لوگوں کو اس قسم کا ہلا دینے والا تجربہ پیش آتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسا ہلا دینے والا تجربہ اور بھی نادر یعنی ریئر ہے، جبکہ وہ آدمی کے لیے مثبت انقلاب کا سبب بن جائے۔ نمبر 3: اپنے تجربے کی روشنی میں ایسے والدین کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ہمارے یہاں کا متبوعہ لٹریچر اہتمام کے ساتھ پڑھوائیں، صرف ایک بار نہیں بلکہ بار بار۔ اسی کے ساتھ وہ کوشش کریں کہ ان کے بچے ہمارے یہاں کے تیار شدہ آڈیو اور ویڈیو دیکھیں اور سنیں۔
یہ تمام آڈیو اور ویڈیو ہماری ویب سائٹ www. cpsglobal. org پر دستیاب ہیں۔ مزید یہ کہ دہلی میں ہونے والا ہمارا ہفتہ وار لیکچر کا پروگرام پابندی کے ساتھ سنیں، جو کہ ہر سنیچر کو شام 5 بجے آئی ایس ٹی اور ہر اتوار کی صبح کو ساڑھے 10 بجے آئی ایس ٹی شروع ہوتا ہے۔
ان دونوں پروگراموں کو فیس بک www. facebook.com مولانا ڈبلیو خان پر لائیو دیکھا جا سکتا ہے۔ نمبر 4: یہ لازمی نوعیت کا ابتدائی پروگرام ہے، جو والدین اپنے بچوں کی اصلاح و تربیت کے خواہش مند ہوں، ان کو اسے اختیار کرنا چاہیے۔ اگر وہ اس کو اختیار نہ کریں تو کوئی بھی جادوئی تدبیر بچوں کی اصلاح کے لیے کارآمد نہیں ہو سکتی۔
کتاب: تربیت اولاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 12۔