Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Ghar ka mahaul.

Urdu · 3 min

گھر کا ماحول: ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے نہایت خوشی کے ساتھ بتایا کہ ان کا معمول ہے کہ وہ روزانہ صبح کو اپنے گھر والوں کو ایک جگہ بٹھاتے ہیں اور کسی دینی کتاب کا ایک حصہ پڑھ کر ان کو سناتے ہیں۔ مجھے بہت سے لوگوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ اس طریقے کو اپنائے ہوئے ہیں؛ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے وہ اپنا دینی فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ بلاشبہ انسان کے بارے میں کم تر اندازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان اس طرح کی رسمی باتوں سے اپنا ذہن نہیں بدلتا، لیکن اس طرح گھر والوں کو دینی کتاب پڑھ کر سنانا اصل ذمہ داری کا صرف نصف ثانی ہے۔

اصل ذمہ داری کی نسبت سے نصف اول یہ ہے کہ گھر کے اندر موافق دین ماحول بنایا جائے۔ اگر گھر کے اندر موافق ماحول نہ ہو تو اس طرح کتاب پڑھ کر سنانے سے مطلوب نتیجہ حاصل نہ ہوگا۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے گھر میں پوری طرح دنیا دارانہ ماحول ہوتا ہے۔ گھر کے اندر دوسروں کے خلاف شکایت کی باتیں ہوتی ہیں۔

گھر کے اندر منفی خبروں کا چرچا رہتا ہے۔ گھر کے اندر انسانی خیرخواہی کی باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے لوگوں کو اپنا اور دوسرے لوگوں کو غیر سمجھنے کا ماحول ہوتا ہے۔ گھر کے اندر جن باتوں کا چرچا ہوتا ہے وہ یہ وہ ہیں: کھانا کپڑا، روپیہ پیسہ، بزنس اور جاب وغیرہ۔ گھر میں دینی کتاب پڑھ کر سنانا بلاشبہ ایک اچھا کام ہے، لیکن اس کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کے اندر اس کے موافق ماحول موجود ہو۔

کتاب پڑھنے سے پہلے اور کتاب پڑھنے کے بعد گھر کے اندر وہی ماحول ہو جو کتاب میں بتایا گیا ہے۔ کسی گھر کو دین دار بنانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ اس کو پوری سنجیدگی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ گھر کا ماحول موافق دین بنائے بغیر گھر کے اندر دینی کتاب پڑھ کر سنانا گویا ہاتھی کے دم میں پتنگ باندھنا ہے۔ اس طرح کے کسی عمل سے گھر کے سرپرستوں کی ذمہ داری ادا نہیں ہو سکتی۔

کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 15۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.