Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Kuch chodna padta hai.

Urdu · 3 min

کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ دہلی میں میں اجمیری گیٹ کی سڑک سے گزر رہا تھا، ایک خاںچہ فروش عورت کی آواز میرے کان میں آئی: "ایک ہزار کی ساڑی پہنوں گی تو بچے نہیں پال سکتی ہوں۔ " اس کے ساتھ بیٹھنے والی خاںچہ فروش نے اس کی معمولی ساڑی پر اعتراض کیا۔ اس کے جواب میں عورت نے کہا کہ خریدنے کے لیے میں بھی اچھی ساڑی خرید سکتی ہوں، مگر اس کی قیمت مجھے یہ دینی پڑے گی کہ اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم میں خرچ کرنے کے لیے اس کے بعد میرے پاس کچھ نہ رہے گا۔

یہ زندگی کی سادہ سی حقیقت ہے: ہر آدمی جانتا ہے کہ زیادہ اہم چیزوں میں اپنا بھرپور حصہ ادا کرنے کے لیے اس کو کم اہم چیزوں میں صبر کا اصول اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کچھ چیزوں میں اسے کم پر راضی ہونا پڑتا ہے تاکہ بعض دوسری چیزوں میں وہ زیادہ کا مالک بن سکے۔ اس اصول کا تعلق ہر ایک سے ہے، خواہ وہ غریب ہو یا امیر۔ غریب کو اس اصول پر چلنے کے لیے اگر اپنی ضروریات میں کمی کرنی پڑتی ہے تو امیر سے اس کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اپنی عیش اور تفریح کی چیزوں میں کمی کر دے۔

اہم کی خاطر غیر اہم کی قربانی ہر ایک کو دینی ہے۔ اس میں ایک شخص یا دوسرے شخص کے درمیان کوئی تفریق نہیں۔ مگر اس اصول کو لوگ صرف اپنے گھر اور اپنے بچوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ خدا کے دین کے بارے میں وہ اس اہم اصول کو بالکل بھولے ہوئے ہیں۔

اس معاملے میں ہر آدمی کا وہی حال ہو رہا ہے جو بائبل میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: "خدا کا گھر ویران ہے، کیونکہ تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کو دوڑا چلا جاتا ہے۔ " حجی، باب 1، آیت 10۔ لوگ اپنے گھر کے امور کو کم اہم اور زیادہ اہم کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جو کم اہم ہے اس کو چھوڑ کر جو زیادہ اہم ہے اس کو اختیار کر لیتے ہیں۔

مگر دین و ملت کے معاملے میں ان کے یہاں اہم اور غیر اہم کی کوئی تقسیم نہیں۔ یہاں وہ بس اپنے ذوق پر چلنا چاہتے ہیں، خواہ اس کا مطلب یہی کیوں نہ ہو کہ آدمی اہم کو چھوڑ کر غیر اہم دائرے میں دوڑنا شروع کر دے۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 9۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.