Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Sanjida hona zaroori hai.

Urdu · 3 min

سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ ایک صاحب اپنے بچوں کے لیے بہت سخت تھے، ہمیشہ ڈانٹ کر بات کرتے تھے۔ کبھی کسی نے ان کو اپنے بچوں کے ساتھ نرمی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ لڑکے ان سے اس قدر ڈرتے تھے کہ ان کے سامنے کوئی بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔

جب وہ گھر میں داخل ہوتے تو تمام بچے خاموش ہو کر ادھر ادھر دبک جاتے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ وہ گھر میں داخل ہوئے، سیڑھی کو طے کر کے جب وہ اپنے مکان کی چھت پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا ایک بچہ بجلی کے پول سے لپٹا ہوا ہے۔ بجلی کے تار میں ایک پتنگ پھنس گئی تھی۔ پتنگ کو حاصل کرنے کے شوق میں لڑکا بارجے کا سہارا لے کر پول پر چڑھ گیا۔

ابھی اس کا کام پورا نہیں ہوا تھا کہ اس کے باپ آ گئے۔ نگاہیں ملتے ہی بچہ سہم گیا، مگر بالکل خلافِ معمول باپ نے کوئی سخت بات نہیں کہی، بلکہ نہایت نرم لہجے میں بولے: "بیٹے، تم وہاں کہاں؟ " اس کے بعد انہوں نے محبت کے انداز میں لڑکے کو ترغیب دی کہ وہ آہستہ آہستہ اترے اور بارجے کا سہارا لے کر دوبارہ گھر میں آ جائے۔ بعد کوئی ایک شخص سے انہوں نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا: "میں نے مسکرا کر اور نرم لہجے میں اس لیے بات کی کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں اس نازک موقع پر ڈانٹتا ہوں تو وہ گھبرا اٹھے گا اور پول سے چھوٹ کر نیچے سڑک پر جا گرے گا۔

اس نزاکت نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنی عادت کے خلاف بچے سے میٹھے انداز میں بات کروں۔ اگر آدمی کو صورتحال کی نزاکت کا احساس ہو اور وہ اس کے لیے درد مند ہو، تو اس کی درد مندی خود ہی مجبور کرے گی کہ وہ اشتعال کے بجائے برداشت کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ تصادم کے بجائے بچ کر نکلنے کی تدبیر کرے۔ کون صحیح اور کون غلط کی بحث میں پڑنے کے بجائے وہ مسئلے کے حل کے پہلو پر دھیان دے۔

اور اگر اس کو نزاکت کا احساس نہ ہو تو وہ اپنی عام عادت کے مطابق بچے کو پول پر دیکھ کر بگڑ اٹھے گا، خواہ اس کا یہی انجام کیوں نہ ہو کہ لڑکا 30 فٹ کی بلندی سے سڑک پر جا گرے اور اس کی ہڈی پسلی چور ہو جائے۔ ساری تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ جب آدمی کسی معاملے میں سنجیدہ ہو تو اس کا انداز اور ہوتا ہے، اور جب وہ سنجیدہ نہ ہو تو اس کا انداز بالکل دوسرا ہوتا ہے۔ کوئی دلیل اس شخص کے لیے دلیل ہے جو سنجیدہ ہو۔ سنجیدہ آدمی ہی کسی بات کے وزن کو محسوس کرتا ہے۔

سنجیدہ آدمی ہی کسی مسئلے کی نزاکتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص سنجیدہ نہ ہو، وہ ہر دلیل کے کاٹ کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ بول دے گا۔ ہر قیمتی بات کو سن کر ایک غیر متعلق بحث چھیڑ دے گا۔ اور اگر اس کی بات کا جواب دے کر بات کو اثرِ نو واضح کیا جائے تو وہ وضاحت کے خلاف دوبارہ کوئی بحث نکال لے گا، اور اصل بات بدستور اس کی گرفت سے دور رہ جائے گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی دلیل اسی کے لیے دلیل ہے جو اس کو سمجھنا چاہے۔ جو سمجھنا نہ چاہے، اس کے لیے کوئی دلیل دلیل نہیں۔ کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 8۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.