Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Walidain ki zimmedari.

Urdu · 3 min

والدین کی ذمہ داری۔ اولاد کی تربیت کے بارے میں انس ابن مالک کے حوالے سے ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: «أكرموا أولادكم وأحسنوا أدبهم» سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3671۔ یعنی اپنی اولاد کے ساتھ بہتر سلوک کرو اور ان کو اچھا ادب سکھاؤ۔ اس حدیث میں ادبِ حسن کا مطلب زندگی کا بہتر طریقہ ہے، یعنی یہ سکھانا کہ بیٹا یا بیٹی بڑے ہونے کے بعد دنیا میں کس طرح رہیں کہ وہ کامیاب ہوں۔

وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا بوجھ، یعنی لائبلٹی، نہ بنیں، بلکہ وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا سرمایہ، یعنی اَسَیٹ، بن جائیں۔ والدین اپنے بچوں کو اگر لاڑ پیار، یعنی پیمپرنگ، کریں تو انہوں نے بچوں کو سب سے برا تحفہ دیا۔ اور اگر والدین اپنے بچوں کو زندگی گزارنے کا کامیاب طریقہ بتائیں اور اس کے لیے ان کو تیار کریں تو انہوں نے اپنے بچوں کو بہترین تحفہ دیا۔ مثلاً بچوں میں یہ مزاج بنانا کہ وہ دوسروں کی شکایت کرنے سے بچیں، وہ ہر معاملے میں اپنی غلطی تلاش کریں، وہ اپنی غلطی تلاش کر کے اس کو درست کریں، اور اس طرح اپنے آپ کو بہتر انسان بنائیں۔

وہ دنیا میں تواضع، یعنی موڈیسٹی، کے مزاج کے ساتھ رہیں، نہ کہ فخر اور برتری کے مزاج کے ساتھ۔ زندگی میں ان کا اصولِ حیات یہ ہو کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرائیں، نہ کہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کریں۔ وہ اپنے وقت اور اپنی توانائی کو صرف مفید کاموں میں لگائیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ بتائیں کہ اگر تم غلطی کرو گے تو اس کی قیمت تم کو خود ادا کرنی ہوگی، کوئی دوسرا شخص نہیں جو تمہاری غلطی کی قیمت ادا کرے۔

کبھی دوسروں کی شکایت نہ کرو؛ دوسروں کی شکایت کرنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ ہمیشہ مثبت انداز سے سوچو، منفی سوچ سے مکمل طور پر اپنے آپ کو بچاؤ۔ بری عادتوں سے اس طرح ڈرو جس طرح کوئی شخص سانپ بچھو سے ڈرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو ڈیوٹی کانشس بنائیں، نہ کہ رائٹ کانشس۔

کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 7۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.