Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Aulad ki haisiyat.

Urdu · 3 min

اولاد کی حیثیت۔ ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا، انہوں نے کہا کہ قرآن میں اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے۔ سورہ الانفال، آہ، سورہ نمبر 8 آیت 28۔ سورہ التغابن، سورہ نمبر 64 آیت 15۔

اس کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ مسلمان عام طور پر اولاد کو خدا کا انعام سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی اپنی اولاد کو فتنہ نہیں بتاتا۔ پھر قرآن کی اُن آیتوں کا کیا مطلب ہے جن میں اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے؟

میں نے کہا کہ اولاد اپنے آپ میں فتنہ نہیں ہے۔ زہر اپنے آپ میں زہر ہوتا ہے، مگر اولاد کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ وہ اصلاً فتنے کے طور پر پیدا ہوتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فتنہ بنانے کا معاملہ ہے، نہ کہ بذاتِ خود فتنہ ہونے کا معاملہ۔ والدین کا اپنا غلط مزاج اولاد کو فتنہ بنا دیتا ہے۔

والدین کے اندر اگر صالح مزاج ہو تو اُن کی اولاد اُن کے لیے فتنہ نہیں بنے گی۔ فتنے کے لفظی معنی آزمائش، یعنی ٹیسٹ کے ہیں۔ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں انسان کو جو چیزیں بھی دی گئی ہیں، وہ سب کے سب امتحان کے پرچے ہیں۔

مال، اولاد، اور دوسری تمام چیزیں بھی امتحان کے پرچے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان تمام چیزوں کو اسی اصل حیثیت سے دیکھے۔ وہ ہمیشہ یہ کوشش کرے کہ وہ اس پرچۂ امتحان میں پورا اترے۔ اس معاملے کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے خالق کو اپنا سب سے بڑا کنسرن بنائے۔

دوسری دنیاوی چیزوں میں سے کوئی بھی چیز، خواہ وہ مال ہو یا اولاد ہو یا اقتدار، وہ اس کا اصل کنسرن، سول کنسرن نہ بننے پائے۔ جو لوگ اس امتحان میں پورے نہ اتریں، وہ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو اپنا کنسرن بنا لیں۔ وہ آخرت میں ایک محروم انسان کی حیثیت سے اٹھیں گے، جبکہ اُن کے تمام سہارے اُن سے ٹوٹ چکے ہوں گے۔ اس وقت وہ حسرت کے ساتھ کہیں گے: ما أغنى عني مالي حلك عني سلطان سورہ نمبر 69 آیت 28 تا 29۔

حقیقت یہ ہے کہ اولاد ذمہ داری، یعنی ریسپانسبیلٹی، کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ فخر، یعنی پرائیڈ، اور مباہات کا کوئی معاملہ۔ کتاب تربیت اولاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 6۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.