پہلا اسکول: علم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ ہر دوسری مصلحت پر اس کو فوقیت حاصل ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان تعلیم کے میدان میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ موجودہ زمانے میں جو تعلیمی ادارے قائم ہوئے، ان کے اساتذہ زیادہ تر غیر مسلم تھے۔ مسلمانوں کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ غیر مسلم استاد ہمارے بچوں کو خراب کر دیں گے، اس لیے ان اداروں میں مسلمانوں کو داخل کرنا درست نہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے ہو گئے۔
یہ مصلحت درست نہ تھی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ میں جو سب سے پہلا اسکول کھولا گیا، اس کے تمام استاد غیر مسلم تھے۔ یہ اسکول مدینے میں مشرک قیدیوں کے ذریعے کھولا گیا۔ بعض لوگ صفہ کو پہلا اسلامی مدرسہ کہتے ہیں، مگر صفہ تربیت گاہ تھا، نہ کہ تعلیم گاہ۔
اسلام کی پہلی تعلیم گاہ یقیناً وہ ہے جو غزوہ بدر کے قیدیوں کے ذریعے مدینے میں قائم کی گئی، اور اس کے ٹیچر سب کے سب مشرک اور غیر مسلم تھے۔ حتیٰ کہ اس تعلیمی نظام کی بنا پر مدینے میں مسائل بھی پیدا ہوئے۔ مثلاً مسند احمد بن حنبل کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کا فدیہ یہ مقرر کیا کہ وہ انصار کے لڑکوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ اس کے بعد ایک روز ایک لڑکا روتا ہوا اپنی ماں کے پاس آیا۔
ماں نے پوچھا، "تمہارا حال کیا ہے؟ " اس نے کہا کہ "میرے معلم نے مجھ کو مارا ہے۔ " جعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فداء أن يعلموا أولاد الأنصار الكتابة قال فجاء غلام يوما يبكي إلى أبيه فقال ما شأنك قال ضربني معلمي مسند احمد حدیث نمبر 2216 یہ قیدی سب کے سب اسلام کے دشمن تھے۔ ان کو چھوڑنے میں یہ اندیشہ تھا کہ وہ دوبارہ اسلام کے خلاف مسئلہ بنیں گے۔
اس کے باوجود انہیں تعلیم کی قیمت پر چھوڑ دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ ہر اندیشے کو نظر انداز کر کے اسے حاصل کرنا چاہیے۔ کتاب تربیت اولاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 75.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.