Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tarbiat-e-Aulad
Tarbiat-e-Aulad

Usko school se kharij kardiya gaya.

Urdu · 5 min

اس کو اسکول سے خارج کر دیا گیا تھا۔ پروفیسر البرٹ آئن سٹائن، 1879 تا 1955 نے بیسویں صدی کی سائنس میں عظیم انقلاب برپا کیا، مگر اس کی زندگی کا آغاز نہایت معمولی تھا۔ 3 سال کی عمر تک وہ بولنا شروع نہ کر سکا؛ بظاہر وہ ایک معمولی باپ کا معمولی بچہ تھا۔ 9 سال کی عمر تک وہ بالکل عام بچہ دکھائی دیتا تھا۔

اسکول کی تعلیم کے زمانے میں ایک بار وہ اسکول سے خارج کر دیا گیا، کیونکہ اس کے استادوں کا خیال تھا کہ اپنی تعلیمی نااہلی کی وجہ سے وہ دوسرے طالب علموں پر برا اثر ڈالتا ہے۔ زیورک کے پولی ٹیکنک میں اس کو پہلی بار داخلہ نہ مل سکا، کیونکہ آزمائشی امتحان میں اس کے نمبر بہت کم تھے۔ چنانچہ اس نے مزید تیاری کر کے اگلے سال داخلہ لیا۔ اس کے ایک استاد نے اس کے بارے میں کہا: "البرٹ واز اے لیزی ڈاگ"۔

البرٹ ایک سست ڈاگ تھا۔ 20 سال کی عمر تک البرٹ آئن سٹائن میں کوئی غیر معمولی آثار نظر نہ آتے تھے۔ مگر اس کے بعد اس نے محنت شروع کی، تو وہ اس بلندی تک پہنچا جو موجودہ زمانے میں بمشکل کسی دوسرے سائنسدان کو حاصل ہوئی۔ اسی بنا پر اس کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے: "We could take heart that it is not necessary to be a good student to become Einstein.

" ہم کو جاننا چاہیے کہ آئن سٹائن بننے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی طالب علمی کے زمانے میں ممتاز رہا ہو۔ آئن سٹائن نے اپنی پہلی سائنسی کتاب اس وقت شائع کی جب کہ اس کی عمر 26 سال تھی۔ اس کے بعد سے اس کی شہرت بڑھتی ہی چلی گئی۔ آئن سٹائن کی زندگی بالکل سادہ تھی۔

وہ نہایت سادہ غذا کھاتا تھا۔ وہ اکثر آدھی رات تک اپنے کام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کو اسرائیل کی صدارت پیش کی گئی تھی، مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ سیاست انسانیت کا کینسر ہے۔

1933 میں اس نے ہٹلر کے جرمنی کو چھوڑ دیا تھا۔ ہٹلر کی حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص آئن سٹائن کا سر کاٹ کر لائے گا، اس کو 20,000 مارک انعام دیا جائے گا۔ اس زمانے میں یہ رقم بہت زیادہ تھی۔ مگر آئن سٹائن کی عظمت لوگوں کے دلوں پر اتنی قائم ہو چکی تھی کہ کوئی اس انعام کو حاصل کرنے کی جرات نہ کر سکا۔

17 اکتوبر 1979۔ تاریخ میں اس طرح کی بہت مثالیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑا انسان بننے کے لیے بڑا بچہ پیدا ہونا ضروری نہیں۔ معمولی حیثیت سے آغاز کر کے آدمی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ جدوجہد کی شرطوں کو پورا کرے۔ بلکہ وہ لوگ زیادہ خوش قسمت ہیں جن کو مشکل مواقع میں زندگی کا ثبوت دینا پڑے۔

کیونکہ مشکل حالات عمل کا محرک ہوتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتے ہیں۔ نیز زندگی کے بہترین سبق ہمیشہ مشکل حالات میں ملتے ہیں۔ اعلیٰ انسان راحتوں میں نہیں بلکہ مشکلوں میں تیار ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں امکانات کی کوئی حد نہیں۔ یہاں کسی کو اپنے عمل کے لیے معمولی آغاز ملے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ معمولی حالات زندگی کا سب سے مضبوط زینہ ہیں۔ تاریخ کی اکثر اعلیٰ ترین کامیابیاں معمولی حالات کے اندر ہی سے برآمد ہوئی ہیں۔

کتاب "تربیت اولاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 76۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.